Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

بہت سے تاجروں میں ایک تاجر کا اضافہ ہو گیا ہے مگر حکومت ایک ایسا تاجر ہے جو دوسرے تمام تاجروں کی دوکانوں کو بند کر کے اپنی دوکان کھولتا ہے۔ اگر یہ واقعہ ہے کہ سرکاری کار و بار نجی کار و بار کے مقابلہ میں عوام کے لئے زیادہ بہتر اور مفید ہے تو اس کی کیا ضرورت ہے کہ وہ فوج اور پولیس کے جلو میں آئے ،اس کو بے خوف ہو کر کھلے مقابلہ میں آنا چاہئے۔ پھر جو طریقہ انسان کے لئے زیادہ اچھا ہو گا لوگ خود ہی اس کی طرف ٹوٹ پڑیں گے اور اس کا مخالف اس کے مقابلہ میں اپنے آپ فنا ہو جائے گا۔ معاشی دنیا میں اس اجارہ داری کے معنی وہی ہیں جو سیاسی دنیا میں ڈکٹیٹر شپ کے ہوتے ہیں۔ ہٹلر نے جرمنی میں بر سر اقتدار آنے کے بعد تمام سیاسی پارٹیوں کو ختم کر دیا تا کہ جب الیکشن ہو تو کوئی پارٹی اس کے مقابلہ میں نہ آ سکے۔ سارے ملک میں صرف ایک نازی پارٹی ہو جس کے نمائندے الیکشن کے موقع پر نامزد کر دئے جائیں اور لوگ مجبور ہوں کہ اپنے ووٹ اسی ایک پارٹی کے بیلٹ بکس میں ڈالیں۔ آج کوئی بھی ہٹلر کی اس اجارہ دارانہ سیاست کو پسند نہیں کرتا۔ مگر معاشیات میں سوشلسٹ اجارہ داری کو ترقی پسند اور جاندار نقطہ نظر کہا جاتا ہے۔ حالانکہ دونوں میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہے کہ ایک جگہ ملک کو سیاسی قید خانہ بنا دیا جاتا ہے اور دوسری جگہ معاشی قید خانہ۔ دنیا پہلے نظریہ کو برا سمجھتی ہے کیونکہ اس کی غلطی سب پر واضح ہو چکی ہے مگر دوسرے نظریہ کا غیر مقدم کرتی ہے کیونکہ اس کی برائیوں پر ابھی " دیوارِ چین " کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اجتماعی ملکیت کے نظام میں اجارہ داری بالقصد لائی نہیں جاتی بلکہ یہ اس کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب حکومت ضروریاتِ زندگی کے پیدا کرنے والے تمام ذرائع کو اپنے ہاتھ میں لے لے تو دوسرے افراد کے لئے یہ موقع کہاں رہتا ہے کہ وہ الگ سے کوئی کام کر سکیں۔ گویا حکومت مقابلہ کرنے سے لوگوں کو روکتی نہیں بلکہ ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ لوگوں کو خود ہی رک جانا پڑتا ہے۔ یہ اگر تو جیہہ ہے تو ایسی توجیہہ ہر ظلم کے خلاف کی جا سکتی ہے۔ بد ترین ڈکٹیٹر شپ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس نے لوگوں کو خیالات کی آزادی سے روکا نہیں تھا بلکہ ان ذرائع پر قبضہ کر لیا تھا جہاں سے خیالات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سیاسی پابندی بالقصد ایک ایک شہری پر عائد نہیں کی گئی بلکہ وہ حکومت کے ایک عمل کا لازمی نتیجہ تھی ۔ مگر اس سے قطع نظر موجودہ سوشلسٹ ممالک میں سے کہیں بھی اجتماعی ملکیت کا نظام اس آخری شکل میں نافذ نہیں کیا گیا ہے جہاں افراد کے لئے خود کچھ کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ابھی تک یہ ممانعت بالقصد نوعیت ہی رکھتی ہے۔ سوشلسٹ ملکوں میں روس وہ ملک ہے جہاں اس نظام کو سب سے زیادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page