Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنایا گیا ہے ۔ مگر وہاں ابھی تک رہائشی مکان اور پس انداز کی ہوئی رقم اور گھر کے ضروری سامانوں پر انفرادی ملکیت کا حق تسلیم کیا گیا ہے ۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اگر چاہے تو اپنے گھر میں ایک مشین تیار کر کے سامان بنانا شروع کر دے ۔ روسی دستور کی دفعہ ٧ کی رو سے اجتماعی فارموں سے منسلک ہر گھرانے کو یہ حق دیا گیا ہے کہ " اس آمدنی کے علاوہ جو اسے اجتماعی فارم کا ایک رکن ہونے کی حیثیت سے ملتی ہے “ اپنے گھر کے پاس تھوڑی زمین نجی استعمال کے لئے" اور "کھیتی باڑی کے چھوٹے چھوٹے اوزار" رکھے ۔ اسی طرح دستور کی دفعہ 9 کی رو سے کسانوں اور دستکاروں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ "وہ الگ الگ اپنا کام چھوٹے چھوٹے پیمانے پر" کر سکتے ہیں ۔ البتہ ان کاموں میں صرف انفرادی محنت کا استعمال ہونا چاہئے ۔ انھیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ دوسروں کی محنت سے فائدہ اٹھائیں ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ روس میں ازروئے دستور اس بات کی ممانعت ہے کہ صنعتی کار گیر اپنے فاضل اوقات میں باہم مل کر کوئی کام کر سکیں یا کوئی شخص یا کوئی شخص دوسرے کو اپنے یہاں مزدور رکھ کر تجارتی پیمانے پر کاروبار کرے ۔ اس کا حق صرف حکومت کو حاصل ہے ، کسی فرد کو نہیں۔ فریب پر حماقت کا اضافہ برٹرینڈ رسل نے کہا ہے کہ "تاریکی ارتقار کے متعلق مارکس کے خیالات ممکن ہے غلط ہوں پھر بھی جو سیاسی اور اقتصادی نظام اس نے پیدا کرنے کی کوشش کی ، وہ ممکن ہے اسی قدر پسندیدہ ہو جس قدر اس کے پیردا اسے سمجھتے ہیں " یہ موجودہ زمانہ کے سوشلسٹ مفکرین کا عام رجحان ہے ۔ وہ مارکس کے نظریات پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ اس کی علمی بنیادیں بہت کمزور ہیں مگر ان نظریات کے لازمی نتیجہ کے طور پریکس نے سماجی فلاح کا جو حل پیش کیا تھا اس کو تسلیم کرتے ہیں کیونکہ موجودہ پریشان کن حالات میں اس کے سوا انھیں زندگی کا کوئی دوسرا حل نظر نہیں آتا ۔ موجودہ سماج میں افراد کی بڑھتی ہوئی خود غرضی اور انانیت اور باہم ایک دوسرے کی لوٹ کھسوٹ نے ان کو انفراد کی طرف سے مایوس کر دیا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو وعظ و تبلیغ کے ذریعہ انصاف پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا ۔ معاش کے مواقع کو عوام کے ہاتھ میں دینے کے معنی یہ ہیں کہ موجودہ لوٹ کھسوٹ کو مستقل طور پر جاری رکھا جائے ۔ اس لئے ان کا خیال یہ ہو گیا ہے کہ ضروریات زندگی کی تیاری اور تقسیم کا کام افراد سے چھین کر حکومت کے سپرد کر دیا جائے جو سب کے درمیان منصفانہ طور پر اس کو تقسیم کرے ۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ حکومت بھی تو عوام ہی میں سے چند افراد کا نام ہے ۔ یہ لوگ مریخ سے درآمد نہیں کئے گئے ہیں بلکہ اسی زمین کے باشندے ہیں ۔ وہ ذریعہ جس سے حکومت کے افراد منتخب ہو کر اقتدار کی کرسیوں تک پہنچتے ہیں وہ الیکشن ہے اور الیکشن کا کام افراد بنانا نہیں ہے بلکہ اس کا کام صرف یہ ہے کہ معاشرہ جس حالت میں ہو اس کے مطابق اس کے نمائندہ افراد کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page