Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

ہونے کے بعد اس سے مختلف کوئی چیز بن جاتے ہیں۔ پھر سماج کے جن افراد سے آپ کو اس وقت خطرہ محسوس ہوتا ہے جب وہ بے اختیار ہوتے ہیں انھیں افراد سے اس وقت خطرہ کیوں محسوس نہیں ہوتا جب وہ الیکشن میں منتخب ہوکر سیاسی اختیارات بھی حاصل کرلیتے ہیں۔ کیا اس تبدیلی کے معنی اس کے سوا کچھ اور ہیں کہ سماج کو غیر قانونی قسم کے ڈاکوؤں سے چھڑا کر ایسے ڈاکوؤں کے حوالے کردیا جائے جن کو قانونی طور پر ڈاکہ زنی کا اختیار حاصل ہو۔ عام افراد کے مقابلے میں حکومتوں سے آپ کس بنیاد پر خیر کی توقع رکھتے ہیں۔ کیا حکومت کا کردار عوام کے کردار سے مختلف ہوتا ہے؟ کسی ملک میں جو حیثیت عام افراد کی ہوتی ہے وہی حیثیت بین الاقوامی دنیا میں مختلف حکومتوں کی ہے۔ پھر کیا یہ حکومتیں عالمی بساط پر اس سے مختلف کسی کردار کا مظاہرہ کررہی ہیں جو متفرق افراد اپنے ملکی دائرہ کے اندر کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں ملکیتی نظام کی تبدیلی کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ سرمایہ دار کو ختم کرکے ان کی جگہ عہدے دار کھڑے کردیئے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ مارکس کے فلسفہ کو مانے بغیر محض ”اجتماعی ملکیت“ کے اصول کی حد تک ایک معاشی حل کے طور پر اس کو اپنانا چاہتے ہیں وہ مارکس کے فریب پر حمایت کا اضافہ کررہے ہیں یہ مارکس کے دعوے کو اس کے دلائل کے بغیر تسلیم کرنا ہے۔ ان لوگوں کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی کو مجرم قرار دے اور جب اس کو شبہ نظر آئے کہ عدالت میں وہ اس کو مجرم ثابت نہ کرسکنے گا تو قانون کا انکار کرکے خود ہی اسے قتل کردالے۔ مارکس کا ”سیاسی اور اقتصادی نظام“ ایک غیر معمولی اور انتہائی عمل ہے جس کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے اس نے اپنے فلسفۂ تاریخ سے کام لیا تھا۔ اب مارکس کے لئے تو یہ ایک وجہ جواز ہے کہ اس نے غلط طور پر سہی، بہرحال کچھ ایسے نظریات قائم کئے جو اس کو تاریخ کے خلاف ایک اقدام کے لئے حق بجانب ثابت کرسکتے ہوں۔ مگر جو لوگ اس کے مقدمات کو نظر انداز کرکے صرف اس کے نتائج کو لینا چاہتے ہیں وہ آخری دلیل کی بنا پر ایسا کررہے ہیں۔ مارکس کے فلسفہ کو چھوڑ دینے کے بعد اس کے معاشی پروگرام کو اختیار کرنے کا آپ کو کیا حق ہے؟ آپ مارکس کے اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ ”قانون، اخلاق اور مذہب سب کے سب بورژوا کے فریب ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ مگر اسی نظریہ کی مدد سے تو اس نے ذاتی ملکیت کی تنسیخ کے خلاف تمام اعتراضات کا جواب دیا تھا۔ پھر اس کو رد کرنے کے بعد آپ کو کیا حق رہتا ہے کہ لوگوں کو ان کی ملکیت سے محروم کریں جس کے وہ تمام قانونی، اخلاقی اور مذہبی تصورات کے مطابق جائز مالک ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page