مارکس کے حل پر اصولی تنقید
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
اس موقع پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ہم لوگوں کی ملکیتوں کو معا وضہ دے کر حاصل کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ ملکیت سے دست برداری آدمی کی خود اپنی مرضی سے ہوگی یا قانون اس کو طے کرے گا۔ اور جو معا وضہ دیا جائے گا اس کو حکومت مقرر کرے گی یا وہ شخص جس کو معا وضہ لینا ہے۔ اگر انتقال ملکیت اور معا وضہ دونوں چیزیں حکومت طے کرے گی اور اصل مالکوں کی مرضی کا اس میں کوئی دخل نہ ہوگا تو یہ کھلا ہوا جبر ہے جس کے لئے مارکسی نظریہ کو ترک کرنے کے بعد آپ کے پاس کوئی وجہ جواز باقی نہیں رہتا۔ آپ مارکس کے " قدر زائد " کے نظریہ کو نہیں مانتے کیونکہ فن اقتصادیات کی رو سے اس کا غلط ہونا ثابت ہو چکا ہے مگر یہی وہ نظریہ ہے جس سے مارکس سرمایہ داروں کے خلاف اپنے انتہائی اقدام کو حق بجانب ثابت کرتا ہے۔ پھر اس کو رد کرنے کے بعد آپ کو کیا حق ہے کہ کچھ لوگوں کو " سرمایہ دار " قرار دے کر ان کی کمائی غصب کریں جب کہ اس فعل کے حق میں معاشی استدلال کو آپ خود ہی غلط قرار دے چکے ہیں۔ آپ مارکس کے اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ " قدیم سماج کے بطن سے جدید سماج طاقت ہی کی مدد سے پیدا ہوتا ہے " آپ کا ارشاد ہے کہ ہم تشدد کے بغیر پر امن ذرائع سے کام لے کر سماج کے اندر معاشی انقلاب لائیں گے۔ مگر پر امن انقلاب کا اب تک کا تجربہ یہ ہے کہ اس میں مراعات یافتہ طبقہ نے " عنوان سے عوام پر غالب آجاتا ہے۔ پھر آپ کا پرامن انقلاب آخر کس بنا پر اس سے مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔ ہم کیوں نہ سمجھیں کہ آپ کا پر امن ذرائع سے سوشلزم لانے کا نعرہ محض ایک فریب ہے جس کے ذریعہ آپ اپنے اختیارات کو وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ آپ مارکس کے اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد ریاست خود بخود فنا ہو جائے گی۔ مگر یہی تو وہ نظریہ ہے جس سے مارکس اس اندیشہ کا جواب دیتا ہے کہ سوشلسٹ نظام میں ریاست کے ہاتھ میں عظیم اختیارات آ جانے کے بعد ظلم بڑھے گا نہیں بلکہ کم ہوتے ہوتے بالا آخر ختم ہو جائے گا۔ پھر اس نظریہ کو رد کر دینے کے بعد آپ کو کیا حق ہے کہ ریاست کے ہاتھ میں وہ عظیم اختیارات دے دیں جو کسی شہنشاہ کو بھی کسی زمانہ میں حاصل نہیں ہوئے تھے ، جب کہ آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ اختیارات لازماً صحیح مقاصد کے لئے استعمال ہوں گے اور کبھی غلط سمت کا رخ نہیں کریں گے۔ آپ مارکس کے اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ انسان کے خیالات اور اس کے اخلاق و عادات اس کی معاشی زندگی کا عکس ہیں۔ حالانکہ یہی وہ نظریہ ہے جس کے ذریعہ مارکس یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کی تمام اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی خرابیاں صرف طریق پیداوار کی تبدیلی سے درست ہو جائیں گی۔ پھر اس کو رد کرنے کے بعد آپ کے پاس وہ کون سی دلیل ہے جس سے آپ یہ ثابت کر سکیں کہ ملکیتنی نظام کو ختم کرنے کے بعد لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ اس نظریہ کو ترک کرنے کے بعد ملکیتی نظام کی تبدیلی کو لوٹنے والے طبقہ کی تبدیلی تو کہا جا سکتا ہے مگر اس کو سماجی اصلاح کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ آپ مارکس کے طبقاتی نظریہ کو نہیں مانتے۔ آپ کا خیال ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader