Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ ذرائع و وسائل کسی طبقہ کے بجائے عوام کے اختیار میں ہونے چاہئیں، حالانکہ یہی طبقاتی نظریہ ہے جس سے مارکس یہ ثابت کرتا ہے کہ سماج کے بیشتر افراد کو کس طرح انصاف اور خوش حالی سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔ جمہوریت کی پچھلی سو برس کی تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ "عوامی حکومت" کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ یہ محض ایک پر فریب لفظی ترکیب ہے جس کے ذریعہ مراعات یافتہ محروم طبقہ کو لوٹتا ہے۔ کیونکہ سماج میں جب طاقت ور اور کمزور دو قسم کے طبقے موجود ہوں ایسی حالت میں عوامی نظام بنانے کے معنیٰ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتے کہ کمزوروں پر طاقت ور طبقہ مسلط ہو جائے۔ اس لئے مارکس نے کہا کہ "عوام کا فائدہ" نہیں بلکہ "محنت کش طبقہ کا فائدہ" اس طبقہ کا فائدہ جو درحقیقت فائدہ سے محروم ہے۔ مگر طبقاتی نظریہ کو ترک کرنے کے بعد آپ کے پاس کیا دلیل ہے کہ آپ کا "عوامی نظریہ" حقیقتاً عوام کو فائدہ پہنچانے کا سبب بنے گا اور اس کا وہی انجام نہیں ہوگا کا جواب تک اس نظریہ کا ہوتا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ مارکس کے فلسفہ کو اس کے پورے نظام سے الگ کرکے محض اس کے معاشی حل کو اختیار کرنا چاہتے ہیں، وہ اتنے بھی ذہین نہیں ہیں جتنا کہ مارکس تھا۔ مارکسزم کی نظریاتی بنیادوں کو ترک کرنے کے بعد اس کا حل بالکل لغو اور بے معنی ہو جاتا ہے۔ مارکس کے معاشی حل کا مقصد سماج کو لوٹ کھسوٹ اور استحصال (Exploitation) سے پاک کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سماج کے اندر کسی گروہ کو یہ موقع کیسے ملتا ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں پر ظلم کرے اور انھیں اپنی لوٹ کھسوٹ کا شکار بنائے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ دوسروں کے مقابلہ میں اس کو زیادہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ دوسروں کے پاس جو چیز کم ہوتی ہے وہ چیز اس کے پاس زیادہ ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اختیارات کا سمٹا و یا مرکوزیت ہی وہ چیز ہے جو عوام کے مقابلہ میں خواص کو ظالم اور لٹیرا بناتی ہے۔ کیا اشتراکی نظام میں اس "مرکوزیت" سے نجات مل جاتی ہے۔ اشتراکی اصولوں کے مطابق جو سماج بنتا ہے کیا اس میں تقسیم اختیارات کا یہ فرق مٹ جاتا ہے۔ کیا وہاں سماج کے تمام افراد نہتے کر دیئے جاتے ہیں اور کسی کے لئے یہ موقع باقی نہیں رہتا کہ وہ اگر چا ہے تو دوسرے کا استحصال کر سکے۔ صورت واقعہ نہ صرف اس کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی ملکیت کے نظام میں اختیارات کی مرکوزیت کا عمل اپنے کمال کے درجہ پر پہنچ جاتا ہے سماج کے با اختیار ادارہ کو عام حالات میں جتنے اختیارات حاصل ہوتے ہیں اجتماعی ملکیت کے نظام میں اس سے کہیں زیادہ اختیارات اسے حاصل ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں سوشلسٹ نظام کے "متولی" اگر بگڑ جائیں تو سوشلسٹ سماج کا حال اس سے بھی ابتر ہو جائے گا جو جمہوری نظام کے متولیوں کے بگڑ جانے سے جمہوری سماج کا ہوتا ہے۔ اس اندیشے کو خود سوشلسٹ حضرات بھی محسوس کرتے ہیں۔ اشوک مہتا نے کہا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page