Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکس کے حل پر اصولی تنقید

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

سوشلسٹ اقتصادیات کا رجحان مرکزیت کی طرف رہتا ہے۔ اس لئے اس کی سیاست کا جمہوری اور غیر مرکز ہونا اور سنسکرتی کا آزاد پرست ہونا بہت ضروری ہے۔ مگر کسی کے ہاتھ میں اختیارات سونپ دینے کے بعد یہ امید رکھنا کہ وہ اس کو ہمیشہ صحیح مقصد کے لئے استعمال کرے گا محض خوش خیالی ہے۔ اگر جمہوری نظام میں ایسا ممکن نہیں ہے تو اشتراکی نظام میں کس طرح ایسا ہو سکتا ہے جب کہ وہاں اختیارات کی مرکزیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ مارکس نے اس پیچیدگی کو اس طرح حل کیا کہ اس نے دعویٰ کیا کہ معاشی حالات کے بدلنے سے انسان بھی بدل جاتے ہیں، شعور کا بننا یا بگڑنا اور انسان کا اچھا یا برا ہونا اس بات پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کے معاشی ماحول میں سانس لے رہا ہے۔ یہ نظریہ اگرچہ مندرجہ بالا سوال کا ایک قطعی جواب دیتا ہے مگر یہ اتنا لغو نظریہ ہے کہ اس کو اپنی صحیح شکل میں کوئی ایسا ہی آدمی قبول کر سکتا ہے جو جذبات میں اندھا ہو چکا ہو۔ چنانچہ سوشلسٹ مفکرین یا تو اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں یا اس کی توجیہہ کرتے ہیں مگر یہ توجیہہ ایسی ہوتی ہے کہ چاہے بطور ایک نظریہ کے اس میں کچھ صداقت ہو مگر اس سوال کے جواب کی حیثیت سے اس کی معنویت ختم ہو جاتی ہے جس کے لئے مارکس نے اس کو وضع کیا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page