Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکسزم اپنی تجربہ گاہ میں

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

مارکسزم اپنی تجربہ گاہ میں مارکس نے زندگی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے جو معاشی تجویز پیش کی ہے۔ اوپر ہم نے اس پر اصولی حیثیت سے گفتگو کی ہے اور عقلی بحث کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ کوئی حل نہیں بلکہ محض ایک لغو کارروائی ہے جس سے ہرگز کسی بہتر نتیجہ کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اب ہم بتائیں گے کہ اس حل کا جب تجربہ کیا گیا تو عملاً اس سے کیا نتائج برآمد ہوئے ۔ اشتراکیت کا اقبال جرم پچھلے صفحات میں ہم نے اشتراکیت پر زیادہ تر نظری حیثیت سے گفتگو کی ہے جس سے قطعی طور پر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اشتراکیت ایک نظریہ کی حیثیت سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس نظریہ کی انتہائی خرابیاں اپنے پہلے ہی تجربہ میں پوری شدت کے ساتھ ظاہر ہو چکی ہیں جو اس کے اولین لیڈروں اور مفکروں کے ذریعہ روس میں ہوا تھا۔ روس اس نظریہ کی اولین تجربہ گاہ نہیں بلکہ در حقیقت وہ اشتراکیت کا مزار ہے جہاں وہ ہمیشہ کے لئے دفن ہو چکی ہے اب اگر وہ زمین کے بعض حصوں میں باقی ہے تو ایک نظریہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ اسی حیثیت سے باقی ہے جیسے کہ جمہوریت باقی ہے۔ جمہوری تحریک جب ابتداً اٹھارویں صدی عیسوی میں فرانس سے اٹھی تو وہ ایک نظریہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ زندگی کا صحیح ترین نظریہ ہے اور اسی کے ذریعہ انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ مگر اب کہیں بھی جمہوریت اس حیثیت سے زندہ نہیں ہے۔ اب وہ صرف ایک سیاسی ہتھیار ہے جس کے ذریعہ کچھ چالاک قسم کے لیڈر عوام الناس پر اپنی سیاسی خدائی کا تخت بچھاتے ہیں۔ اسی طرح اشتراکیت اب کوئی نظریہ نہیں بلکہ ایک سیاسی حربہ ہے جس کے ذریعہ کچھ انسان نما در یوزی زمین کے ایک تہائی حصہ میں تقریباً نوے کروڑ انسانوں کا گلا دبائے ہوئے ہیں۔ اشتراکی نظام کے بارہ میں یہ تلخ حقیقت اب " سرمایہ داروں کا پروپیگنڈا " نہیں رہی بلکہ بیسویں کامگرس کے بعد خود روسی لیڈروں نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔ اس نظام میں جب ایک بار کوئی شخص بر سر اقتدار آ جائے تو پھر موت کا فرشتہ ہی انسانیت کو اس عذاب سے نجات دلا سکتا ہے۔ چنانچہ سٹالن کو نہ تو معزول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page