مارکسزم اپنی تجربہ گاہ میں
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا جاسکتا اور نہ اس کی زندگی میں کسی کو اس کے خلاف بولنے کی جرأت ہوئی ۔ اس کے مظالم کو "تاریخ کے عظیم انصاف" کی حیثیت سے پیش کیا گیا ، اس کے بارے میں کہا گیا کہ "سٹالن کلاسیکل کمیونزم کا حقیقی پیرو ہے"، مگر اس کے مرنے کے بعد خود اشتراکی پریس نے یہ تسلیم کیا کہ سٹالن تاریخ کا سب سے بڑا ظالم انسان تھا۔ اپنی حکومت کے آخری دور میں اس کی خود پسندی نے قابل نفرت شکل اختیار کرلی ۔ اس نے خود کو پارٹی اور عوام سے بالاتر کر لیا ، مرکزی کمیٹی کی رائے پر غور کرنا ترک کردیا ، اس نے مطلق العنان طرزِ حکومت پر عمل کیا ، روسی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری اول مسٹر خروشییف (N. Khrushchev) نے سٹالن کے مرنے کے بعد پارٹی کی بیسویں کانگریس (فروری ۱۹۵۶ء) میں ایک تقریر کی جس میں سٹالن کے جرائم گنائے۔ یہ ایک طویل تقریر تھی جس کے بعض فقرے یہاں درج کئے جاتے ہیں: "ایک شخص سب کچھ جانتا ہے ، سب کچھ دیکھتا ہے ، ہر فرد سے واقف ہے ، ہر کام کرسکتا ہے ، اس سے کبھی غلطی نہیں ہوسکتی ۔ کسی شخص میں اس قسم کی غیر معمولی صفات کو ماننا اسے خدا بنانا ہے مگر سٹالن کے بارہ میں سالہا سال تک ہمارا عقیدہ یہی تھا جس کی تردید اس کے مرنے کے بعد سنٹرل کمیٹی نے کی ہے ۔" "سٹالن سمجھانا بجھانا نہیں جانتا تھا بلکہ وہ اپنے خیالات کو زبردستی منواتا تھا اور لوگوں سے اندھی اطاعت کا مطالبہ کرتا تھا۔ جس نے بھی اس کی اطاعت نہیں کی یا اس کے نقطۂ نظر سے اختلاف کیا اس کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا ۔ سترھویں پارٹی کانگریس کے بعد خاص طور پر پارٹی کے بہت سے بڑے بڑے لیڈر اور کارکن اس کی مطلق العانی کا شکار ہوگئے ۔" "سٹالن نے 'عوام دشمن' کی اصطلاح ایجاد کی جس کا مطلب خود بخود یہ ہوگیا کہ ایک شخص کی رائے خواہ صحیح ہو یا غلط لازماً قبول کی جانی چاہئے ۔ اس اصطلاح کے ذریعہ یہ ممکن ہوگیا کہ کوئی شخص جو کسی بھی پہلو سے سٹالن کی تائید نہ کرتا ہویا جس کے بارے میں ایسا شبہ کیا جائے اس کے خلاف ہر ظالمانہ سلوک کیا جاسکتا ہے اور اس کے خلاف ہر قسم کے تشدد کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ "عوام دشمن" کی اصطلاح کے بعد اختلاف رائے اور کسی معاملہ میں بحث و نظر کے بعد ایک نتیجہ تک پہونچنے کی کوشش کرنا ناممکن ہوگیا ۔ ایسے تمام مجرمین کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے جو قانونی بنیاد فراہم کی گئی وہ اعتراف (Confession) تھا جو جسمانی اذیتوں کے ذریعہ اگلوایا جاتا تھا ۔" "ایک شخص کی من مانی کارروائی نے دوسروں کو بھی مطلق العنان بنا دیا۔ بے شمار لوگ گرفتار ہوئے ہزاروں آدمی جلاوطن کر دیئے گئے ، کسی عدالتی کارروائی اور تحقیق و تفتیش کے بغیر سزائیں دی گئیں ، اس چیز نے نااتور پرڈنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader