مارکسزم اپنی تجربہ گاہ میں
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
اور خوف کی فضا پیدا کردی اور لوگوں کو مایوس بنادیا " "حال میں خاص طور پر۔ بیریا کے گروہ کا صفایا کرنے کے بعد سنٹرل کمیٹی نے بہت سے واقعات کی تحقیق کی جو اس گروہ نے اپنے زمانے میں گھڑے تھے۔ اس سے سٹالن کی وحشیانہ خودسرائی کے بارے میں بڑی بھیانک حقیقتوں کا انکشاف ہوا۔ معلوم ہوا کہ سٹالن نے اپنے لامحدود اختیارات کو بہت غلط طریقہ پر استعمال کیا تھا۔ وہ سنٹرل کمیٹی کے نام پر کارروائی کرتا تھا مگر کمیٹی کے ممبروں سے ان کی رائے تک دریافت نہیں کرتا تھا ، نہ کمیٹی کی پولیٹیکل بیورو سے مشورہ کرتا تھا۔ اکثر نہایت اہم معاملات میں اس نے اپنے ذاتی فیصلوں کی انھیں اطلاع تک نہیں دی ۔" "جنگ کے بعد سات سال تک کوئی کانگریس نہیں بلائی گئی " یہ واضح ہو چکا ہے کہ بہت سے لوگ جو سنہ ۱۹۳۷ء میں دشمن قرار دئے گئے تھے وہ حقیقتڈ دشمن نہیں تھے ، نہ جاسوس تھے ، نہ توڑ پھوڑ کرنے والے تھے، بلکہ اکثر نہایت وفادار کمیونسٹ تھے۔ ان کو بدنام کیا گیا اور سخت جسمانی عذاب کے ذریعہ ان سے زبردستی ہولناک جرائم کا اقرار کرایا گیا ۔ اسی زمانہ کا واقعہ ہے کہ پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے ۱۳ ممبر جو سترھویں کانگریس میں چنے گئے تھے ، ان میں سے ۹۸ ممبروں یعنی سترنی صدر کو گرفتار کر کے گولی ماردی گئی ۔ یہ انجام صرف سنٹرل کمیٹی کے ممبروں کا نہیں ہوا بلکہ اٹھارہویں پارٹی کانگریس کے مندوبین (Delegates) کے ساتھ بھی۔ یہی معاملہ کیا گیا ۔ ان کی اکثریت یعنی ۱۹۴۶ء مندوبین میں سے ۱۱۰۸ کو " انقلاب دشمن " جرائم کے ارتکاب کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا " "نفرت انگیز بہتان اور مجرمانہ کارروائیوں کی ایک شرمناک مثال اے کے (Eikhe) کا واقعہ ہے جو سنٹرل کمیٹی کی پولیٹیکل بیورو کے لئے امیدوار تھا۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کا ایک ممتاز کارکن تھا۔ وہ ۱۹۰۵ سے پارٹی کا ممبر تھا۔ کامریڈ اے کے ۹ اپریل ۱۹۳۸ء کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے سرکاری سامان میں خوردبرد کیا ہے ۔ اے کے کے مقدمہ کی تفتیش جس طرح کی گئی وہ وحشیانہ دروغ بیانی کی ایک بدترین مثال ہے۔ اے کے کو شدید جسمانی عذاب دے کر مجبور کیا گیا کہ وہ اعتراف جرم کی ایک ایسی دستاویز پر دستخط کرے جس کو محکمہ تفتیش کے جھوں نے تیار کیا تھا۔ جس میں وہ اور دوسرے بہت سے ممتاز پارٹی کارکن عوام دشمن سرگرمیوں میں ماخوذ کئے گئے تھے ۔ ۴ فروری کو اے کے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ اس طرح کے اور بہت سے مقدمہ ہیں جو محض بہتان اور جعل سازی کی بنیاد پر کھڑے کئے گئے تھے " " جب سٹالن کسی شخص کے بارے میں یہ کہہ دیتاکہ اس کو گرفتار کر لیا جائے اس وقت یہ ایمان لانا ضروری تھا کہ وہ شخص " عوام کا دشمن " ہے۔ ان دنوں بیریا کا گروہ جو ریاستی تحفظ کا ذمہ دار تھا گرفتار شدہ شخص کو مجرم بنانے اور اس کے خلاف اپنے جھوٹے الزامات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے نہایت تیزی سے حرکت کرتا تھا ۔ اور وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader