مارکسزم اپنی تجربہ گاہ میں
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
در خروشیچ کی خفیہ تقریر کی اشاعت سے بہت پہلے میں نے اور کمیونسٹ پارٹی کے دوسرے ممبروں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ عالمی کمیونسٹ تحریک میں کوئی المناک خامی موجود ہے ۔ ان باتوں نے مجھ میں اور بہت سے دوسرے لوگوں میں ایک تبدیلی کے رحجان کی ابتدا کر دی تھی ۔ لیکن اس کے باوجود ہم خروشیچ کی خفیہ رپورٹ کے آتشیں اور ذہنی انکشافات کے لئے تیار نہیں تھے ۔ اس دہشت کی حدیں ہمارے خواب وخيال سے بھی پرے تھیں اور ان بدترین الزامات کی حدوں سے بھی بہت آگے تھیں جو سوویٹ یونین کے دشمن اس پر عائد کرتے تھے ۔ میرا دل نفرت اور حقارت سے بھر گیا ۔ مجھے اس احساس سے لا محدود ذہنی کوفت ہو رہی تھی کہ میں خون کی اس سفاکانہ ہولی کی تائید کرتا رہا ہوں ' دوسروں کی طرح مجھے بھی یہ محسوس ہوا کہ میں تاریخ جدید کے ایک نا قابل بیان دھو کے کا شکار ہوا ۔ تشنه خروشیچ کی مبینہ رپورٹ جس کے بعض حصے ہم نے اوپر نقل کئے ہیں اس کی اشاعت کے بعد فرانس کی کمیونسٹ پارٹی نے سوویٹ یونین کی کمیونسٹ پارٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ سٹالن کی طرف جو ہولناک جرائم منسوب کئے گئے ہیں ، ان کی مکمل نظریاتی وضاحت کی جائے ۔ اس پر سوویٹ یونین کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے ایک طے شدہ بیان جاری کیا جو سوویٹ لینڈ ۱۵ ار جولائی ۱۹۵۶ء کے ساتھ بہ شکل ضمیمہ نمبر ہم شائع ہوا ہے۔ اس میں اس سوال کی وضاحت کی گئی ہے کہ ” آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ سٹالن کی ڈکٹیٹر شب اپنے تمام برے نتائج کے ساتھ سوویٹ اشتراکی نظام کے حالات میں ابھری اور اس طرح پھیل گئی ۔ یہ بیان تمام تر تضاد بیانی سے بھرا ہوا ہے ۔ اس میں فرد پسندی (Cult of individual) کو ان حالات کے رونما ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سٹالن ازم کے ابھرنے کے اسباب سوویٹ سماجی نظام میں نہیں ہیں بلکہ اس کی ذمہ داری تمام تر خود سٹالن پر ہے اور اس بات پر ہے کہ اشتراکی ریاست کا وزیر اعظم بننے کے بعد وہ سماج کی خدمت کرنے کے بجائے اپنی ذات کی پرستش میں مبتلا ہو گیا اور اپنے کو عوام سے بالاتر کر لیا ۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب اشترا کی حضرات کے دعوئی کے مطابق روس میں لوٹنے والے طبقوں کو ختم کر دیا گیا تھا ، جب وہاں ذرائع پیدا دار پر سماج کی ملکیت قائم ہو چکی تھی ، جب سوویٹ نظام کے تحت حکومت کے اختیارات کسی ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں تھے بلکہ پورے محنت کش طبقہ کی طرف منتقل کر دیئے گئے تھے تو آخر کس طرح ایک شخص وہاں کے تمام اختیارات پر قابض ہو گیا ۔ اجتماعی ملکیت کے نظام میں انفرادی ملکیت کی برائیاں کیسے پیدا ہو گئیں ۔ کیا اشترا کیت کے مخالفین کا یہ اعتراض صحیح ہے کہ اشترا کی نظام ڈکٹیٹر شپ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader