Urdu book · سوشلزم اور اسلام

مارکسزم اپنی تجربہ گاہ میں

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

بدترین شکل ہے جس کو خوبصورت نظریات کا لباس اڑھادیا گیا ہے۔ کیا اشتراکی نظام میں بھی اقتدار عوام کے ہاتھ میں نہیں ہوتا بلکہ اس ایک شخص کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو اتفاق سے ریاست کا حکم اعلیٰ بن جائے۔ کیا مزدور ڈکھیٹر شپ‘‘ اس کا نام ہے کہ ساری آبادی کو مزدور بنا کر محض ایک شخص ان کے اوپر ڈکھیٹر بن جائے؟ روسی کمیونسٹ پارٹی نے اس واقعہ کی جو توجیہ کی ہے وہ مارکسی نظریات کے عین برعکس ہے۔ کیونکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اسٹالن کے بگڑنے کے اسباب خود اس کی ذات میں تھے نہ کہ وقت کے مادی ماحول میں۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں لینن اور اس کے ساتھیوں نے نارودونکو ں (روس کا ایک اشتراکی حلقہ) کی اس بنا پر سخت مخالفت کی تھی۔ کہ ’’ ان کے خیال کے مطابق تاریخ کا انحصار سماجی طبقوں اور ان کی آپس کی کش مکش پر نہیں بلکہ ان نمایاں افراد ( ہیروز) پر رہے جن کی عوام الناس آنکھ بند کرکے پیروی کرتے ہیں‘‘۔ مگر آج نارودونکو ں کے اسی غلط اور رجعت پسندانہ نظریہ کو اسٹالن ازم کی تاویل و تشریح میں پیش کیا جارہا ہے ۔ ان حضرات سے اگر پوچھا جائے کہ ہٹلر کیوں جرمنی کا ڈکھیٹر بن گیا تو وہ کہی یہ کہیں گے کہ ڈکھیٹر شپ کے جراثیم ہٹلر کے دماغ میں پیدا ہوئے اور یہ محض اس کا شخصی کردار تھا جس کی وجہ سے وہ جرمنی کے سر پر مسلط ہو گیا۔ وہ ہمیشہ یہی کہیں گے اور یہی کہتے رہے ہیں کہ ڈکھیٹر شپ کے ظہور کے اسباب اس طریق پیدا وار میں ہیں جو ملک کے اندر موجود تھا ۔ ہٹلر کی ظالمانہ حکومت اس کے انفرادی عمل کا نتیجہ نہیں تھی وہ دراصل پیداوار اور تبادلہ کے اس طریقہ کا لازمی نتیجہ تھی جو اس وقت جرمنی میں رایج تھا۔ ہٹلر دراصل کوئی شخصی کردار نہیں تھا بلکہ جرمنی کے ظالمانہ طریق پیدا وار نے اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے ہٹلر کی شکل اختیار کر لی تھی ۔ مارکس کا تو سارا فلسفہ یہی ہے کہ افراد محض وقت کے مادی حالات میں کھلونا ہوتے ہیں ، مارکسی مفکرین ہمیشہ تاریخ کے اس تصور کا مذاق اڑاتے رہے ہیں کہ افراد بھی اپنے ارادہ سے حالات کو بناتے یا بگڑتے ہیں۔ مگر روس میں پیدا وار اور تقسیم کے نظام کی تبدیلی کے بعد جب یہی چیز رونما ہوئی تو اس کی ذمہ داری انھوں نے ایک شخص پر ڈال دی تاکہ اشتراکی طریق پیدا وار پر حرف نہ آئے۔ حالانکہ یہ واقعہ کھلا ہوا اس بات کا ثبوت تھا کہ یا تو مارکس کا یہ نظریہ غلط ہے کہ انسان کا ذہن اور اس کا کردار ویسا ہی بنتا ہے جیسا اس کا مادی ماحول ہو یا اشتراکی طریق پیدا وار میں بھی اسی طرح ظلم و جبر اور استحصال کا نظام جاری رہتا ہے جیسا کہ سرمایه‌دار سوسائٹی میں ہوتا ہے۔ ورنہ جب روس میں مارکسی نظریہ کے مطابق معاشی حالات بدل دیئے گئے تو وہاں ڈکھیٹر شپ کیوں ابھرتی۔ ایک چوتھائی صدی سے زیادہ عرصہ تک روس کے بارہ میں پروپیگنڈ کیا جاتا رہا کہ وہاں ملکیتیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page