مارکسزم اپنی تجربہ گاہ میں
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
سارے سماج کے قبضے میں دے دی گئی ہیں، وہاں انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال ختم ہوگیا ہے، وہاں ریاست ظلم وجبر کا آلہ نہیں، بلکہ عوام کی خادم ہے، وہاں حکومت اور رعایا کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ مگر جب پردہ اٹھا تو معلوم ہوا کہ یہ سب محض جھوٹا پروپیگنڈا تھا۔ سٹالن جو اس پورے عرصہ میں اس نظام کا حاکم تھا وہ اول درجہ کا ظالم اور خود غرض ثابت ہوا۔ بیریایا، مالوٹوف، مالنکوف، شپلوف، کگانوچ ، زوکوف، اور بہت سے دوسرے لوگ جو سٹالن کی رفاقت میں اس نظام کو چلا رہے تھے، سب کے سب انسانیت کش اور سماج کے دشمن نکلے ۔ انگلینڈ یا امریکہ میں اگر کوئی حکومت بگڑ جائے تو بلیک میں طوفان مچ جائے گا مگر اشتراکی نظام نے ان ظالموں کو اس قدر اختیارات دے دئے تھے کہ ملک کے اندر کوئی ایک زبان بھی ان کے خلاف بولنے کی جرات نہ کرسکی، نہ پریس سے ان کے بارہ میں کوئی مضمون شائع ہوا، یہودیت یونین کی سوویتوں کی اٹھویں کانگریس منعقدہ ۲۵ نومبر ۱۹۳۶ء میں جب سٹالن نے اعلان کیا کہ "روس میں انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال ختم ہوگیا ہے : " تو حاضرین بہت دیر تک تعریف وتحسین کے نعرے لگاتے رہے۔ سٹالن کی زندگی تک یہ حال تھا کہ روس میں ہر تقریر کو خواہ وہ کسی بھی موضوع پر ہو ان الفاظ کے ساتھ ختم کیا جاتا تھا ۔ " زندہ باد سٹالن پائندہ باد سٹالن ۔ تقریر کے اختتام کا یہ انداز تقریر کی کامیابی کا ضامن تھا۔ کیونکہ ایسے ہر جملہ کے بعد مسلسل تالیاں اور مسرت کے فلک شگاف نعرے لازمی تھے ۔ مگر یہی سٹالن اپنی موت کے تین سال کے بعد قاتل، لٹیرا اور اناڑی سیاست داں جیسے خطابات سے نوازا گیا ۔ ۴۵ سال تک اعلان کیا جاتا رہا کہ سوویت طرزِ حکومت تاریخ کا بہترین طرزِ حکومت ہے! "سوویٹ یونین میں سالا اقتدار ملک کے جائز مالکوں یعنی محنت کشوں کے ہاتھ میں ہے؟" 4، کبر و سوویت عوام انسانی تاریخ میں وہ پہلے انسان ہیں جو اپنے ملک کے ایک آزاد ملک کی تمام تر دولت کے پورے طور پر مالک ہو گئے ہیں "، مگر جب پردہ اٹھا تو معلوم ہوا کہ اس سے بدتر نظام حکومت شاید تاریخ میں کبھی وجود میں نہیں آیا تھا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader