تجرباتی تردید
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
تجرباتی تردید ایک عام تحریک کے لئے اس کی عملی خامی لازمی طور پر اس کی نظریاتی خامی کا ثبوت نہیں ہوتی، مگر مارکسی اشتراکیت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ یہاں عملی خامی کا ظاہر ہونا یقینی طور پر اس کی نظریاتی خامی کا بھی ثبوت ہے۔ یہ ایسی بات ہے جیسے کوئی شخص لوہے کے پگھلنے کا ایک قانون بیان کرے، اب اگر تجربہ کے بعد لوہا اس کے بیان کے مطابق نہ پگھلے تو اس سے لوہے کی خامی ثابت نہیں ہوگی بلکہ نظریہ پیش کرنے والے کے نظریہ کی خامی ثابت ہوگی۔ مارکس نے اپنے دعوے کے مطابق سماجی علم کو سائنس کی حیثیت دی ہے۔ اس لئے اس کے نظریہ کی آزمائش سائنسی علوم کے مطابق کی جائے گی نہ کہ عام انسانی علوم کے مطابق۔ کمیونزم کے پرجوش عقیدت مند آپ کو یہ کہتے ہوئے ملیں گے کہ ہم نے مانا کہ اسٹالن نے اشتراکی انقلاب کے ساتھ غداری کی۔ مگر اس سے اشتراکی اصولوں کی حقانیت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ نظریہ الگ چیز ہے اور اس کے ماننے والے افراد کا کردار بالکل علیحدہ چیز ہے۔ اگر کسی نظریہ کو ماننے والے افراد بگڑ جائیں تو اس سے اصل نظریہ کے غلط ہونے پر کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ پر تو بالکل صحیح ہے مگر اس سے ان لوگوں کے نظریہ کی تائید نہیں ہوتی جو اس کو پیش کر رہے ہیں۔ ایک ایسا نظریہ جو افراد کے کردار کو خود افراد کے اپنے ارادہ وشعور کا نتیجہ قرار دیتا ہو، جس کے نزدیک افراد وہی کچھ کرتے ہیں جو وہ خود کرنا چاہتے ہوں اس کے بارہ میں تو ضرور یہ کہا جا سکتا ہے کہ نظریہ کو ماننے والے افراد کے بگڑ جانے سے اس نظریہ کی خرابی ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ نظریہ افراد کو ایک با اختیار ہستی تسلیم کرتا ہے۔ اس کے نزدیک افراد اسی حد تک اصلاح یافتہ ہوں گے جس حد تک وہ خود نظریہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader