Urdu book · سوشلزم اور اسلام

تجرباتی تردید

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اختیار کریں۔ مگر مارکسزم تو اس کے بالکل برعکس ایک نظریہ ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ شعور بذاتِ خود کوئی چیز نہیں، وہ صرف اپنے مادی ماحول کی پیداوار ہے۔ دوسرے لفظوں میں آدمی جو کچھ کرتا ہے اس لئے نہیں کرتا کہ وہ اپنے ارادہ وشعور کے تحت ایسا کرنا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ وقت کے مادی حالات نے اس سے ایسا کرنے کے لئے کہا ہے۔ پہلے قسم کے نظریہ کا کہنا ہے کہ انسان کو بدلنا چاہتے ہو تو اس کے فکر کو بدل دو، اس کے برعکس مارکس کا کہنا ہے کہ "انسان کو بدلنا چاہتے ہو تو اس کے معاشی حالات کو بدل دو" پہلی صورت میں بہتر حالات لانے کے لئے انسان کے رجحانات اور تصورات کو بدلنے پر ساری کوشش صرف کی جائے گی تا کہ وہ اس کے لئے تیار ہو سکنے کے اپنے ارادہ کو غلط سمتوں سے بچا کر صحیح سمت میں لگائے۔ اس کے برعکس مارکسزم کے نزدیک اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ معاشی حالات کو بدلا جائے۔ اس کے نزدیک معاشی حالات ہی سے شعور اور ارادہ پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے جب معاشی حالات بدل دیئے جائیں گے تو شعور خود بخود تبدیل ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں جب کسی علاقہ میں معاشی حالات اور دین دین کے طریقہ کو تبدیل کر دیا جائے تو خود بخود انسانوں کو بھی بدل جانا چاہئے۔ اگر معاشی حالات کی تبدیلی کے بعد بھی انسان نہ بدلیں تو یہ سمجھا جائے گا کہ خود وہ نظریہ غلط تھا جس کے تحت سماج کی اصلاح کے لئے معاشی حالات کو بدلنے کا پروگرام وضع کیا گیا تھا۔ یہ فرد کی خرابی نہیں بلکہ خود نظریہ کے غلط ہونے کا ثبوت ہے۔ پہلی قسم کے نظریہ کے تحت قائم شدہ نظام میں اگر افراد کی اصلاح نہ ہو تو کہا جائے گا کہ افراد نے پوری طرح نظریہ کو قبول نہیں کیا ہے۔ ان کے ارادہ پر ابھی تک نظریہ کی حکمرانی قائم نہیں ہوئی ہے‘ وہ انانیت اور خود پرستی کا شکار ہیں۔ اس کے برعکس مارکسی نظریہ کے تحت قائم شدہ نظام میں اگر افراد کی اصلاح نہ ہو تو اس سے خود نظریہ کی تردید ہو جاتی ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مادہ شعور نہیں پیدا کرتا بلکہ شعور مادہ سے الگ ایک مستقل چیز ہے جو خود مادہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مارکسزم شعور کو بالکل مادہ کی مخلوق تسلیم نہیں کرتی بلکہ اس کی مستقل بالذات حیثیت کا بھی اقرار کرتی ہے جیسا کہ مارکس کی وفات کے بعد اس کے رفیق فریڈرش انگلس نے مسٹر جوز نِ بلاک کے نام اپنے خط مورخہ ۲۱ ستمبر ۱۸۹۰ء میں لکھا تھا۔ مگر یہ تاویل اختیار کرنا مارکسزم کی بنیاد ہی کو سرے سے ڈھا دینا ہے۔ مارکس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ممکن ہوا ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان مسلسل کش کش اور لوٹ کھسوٹ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس معاشی نظام کو بدل دیا جائے جو اس دائمی فساد کا ذمہ دار ہے۔ اور جس میں نامعلوم مدت سے انسان زندگی گزارتا چلا آرہا ہے۔ اس کے نزدیک انفرادی ملکیت کے نظام کو بدل کر اجتماعی ملکیت کے نظام کی شکل دے دینے کے معنی یہ تھے کہ خود انسان کے اخلاق و کردار کو بدل دیا گیا ہے۔ لیکن اگر اس مادی تبدیلی کے بعد بھی انسان کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page