تجرباتی تردید
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
شعور نہیں بدلتا ، جیسا کہ اینگلز اور دوسرے اشتراکی مفکرین نے مارکس کے نظریے کی توجیہ کرتے ہوئے کہا ہے ، اگر اشتراکی سماج میں انسان کے لئے یہ موقع باقی رہتا ہے کہ وہ اسی طرح لوٹ کھسوٹ کی باتیں سوچے جس طرح وہ غیر اشتراکی نظام میں سوچتا ہے ، تو پھر کس بنا پر یہ توقع کی جائے کہ اشتراکی نظام میں استحصال کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ انسانی شعور کی مستقل بالذات حیثیت تسلیم کرنے کے معنی دراصل یہ ہیں کہ ملکیتی نظام کی تبدیلی کے بعد بھی یہ مسئلہ باقی ہے کہ انسان کے اندر انحراف پیدا ہو اور سماج کے کچھ لوگ موقع پا کر سماج کے سروں پر مسلط ہو جائیں جس طرح ہٹلر جرمنی کے اوپر مسلط ہو گیا تھا۔ مارکس نے جمہوری نظام کو یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ اس میں افراد کے لئے یہ موقع باقی رہتا ہے کہ نئے عنوان سے وہ سماجی اختیارات پر قابض ہو جائیں پھر جب اشتراکی نظام میں بھی افراد کے لئے یہ موقع باقی رہا کہ وہ چاہیں تو عوام کی گردن پر سوار ہو جائیں اور اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک سارے سماج کو اپنا غلام بن کر رہنے پر مجبور کر دیں تو پھر دونوں میں فرق کیا ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ مارکس کے نظریہ کو اگر خود اس کے الفاظ کے مطابق بالکل تثبیت شکل میں مانا جائے تو تجربہ نے اس کی تردید کر دی ہے اور اگر اینگلز اور دوسرے مارکسی مفکرین کی تشریح کے مطابق اسے مانا جائے تو پھر کسی تجربہ کی ضرورت نہیں۔ یہ نظریہ اپنی تردید آپ کر رہا ہے۔ مزدور طبقہ کا کردار سرمایہ دار طبقہ کے کردار سے مختلف نہیں سرمایہ دار طبقہ مارکس کی شریعت میں ٹھیک وہی مقام رکھتا ہے جو الہی شریعیتوں میں شیطان کا ہے۔ وہ سرمایہ دار طبقہ کو بحیثیت طبقہ کے ختم کر دینا چاہتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک وہی ساری برائیوں کی جڑ ہے۔ اور سماجی انتظام کے تمام مواقع محنت کش طبقہ کے حوالہ کر دینے کا علم بردار ہے۔ مگر "سرمایہ دار" کون ہے ۔ یہ اب تک واضح نہیں کیا جا سکا۔ مارکس پورے زور وشور کے ساتھ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انسانی تاریخ دو طبقات میں بٹی ہوئی ہے اور صنعتی انقلاب کے بعد تو اس کے نزدیک تقسیم بالکل واضح ہو گئی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں " جن کے پاس سب کچھ ہے" اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں" جن کے پاس کچھ بھی نہیں۔" مگر کیا یہ بات اتنی ہی واضح ہے جتنی کہ مارکس اسے بتاتا ہے۔ کیا حقیقتاً انسانوں کے درمیان ایسا کوئی خط کھینچنا ممکن ہے جس کے متعلق آپ کہہ سکیں کہ اُس کے اس پار جو لوگ ہیں وہ سرمایہ دار ہیں اور اُس پار غیر سرمایہ دار ۔ اشتعالی منشور میں سرمایہ دار طبقہ کو انسانی آبادی کا صرف دس فیصد حصہ بتایا گیا ہے۔ اشتراکیت پر جبر و تشدد کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تاریخ کے پچھلے ادوار میں اقلیت نے اکثریت پر ظلم کیا تھا۔ اب جو مزدور انقلاب آ رہا ہے اس میں اکثریت ایک محدود اقلیت کو دبا کر رکھے گی۔ مگر عملاً جب روس میں محروم طبقہ " نے اقتدار حاصل کیا اور سرمایہ داروں کو ایک " طبقہ" کی حیثیت سے ختم کرنے کی مہم شروع ہوئی تو وہ نہ نار پر رکی ، نہ جاگیرداروں اور کارخانہ داروں پر بلکہ دن بدن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader