Urdu book · سوشلزم اور اسلام

تجرباتی تردید

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا ۔ یہاں تک کہ ملک کی بیشتر آبادی جو چھوٹے چھوٹے قطعات پر کھیتی کرنے والے کسانوں پر مشتمل بھی ان سب کو آخری اور "امکانی سرمایہ دار" قرار دیدیا گیا۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ خود جدلیاتی فلسفہ کے مومنین یعنی کمیونسٹ پارٹی کے بے شمار ارکان "سرمایہ داروں کے ایجنٹ" نکلے جن کے خاتمہ کے لئے وسیع پیمانہ پر «صفائی کی مہم جاری کرنی پڑی۔ پچھلی دو بڑی لڑائیوں کے درمیانی دور میں سویٹ روس کے اندر پندرہ لاکھ سے بیس لاکھ پارٹی ممبروں کا صفایا کیا گیا۔ 1921ء میں لینن نے مرکزی کمیٹی کو یہ مشورہ دیا کہ پارٹی کو تمام "بد معاشوں ، نوکر شاہی ذہنیت رکھنے والوں بے ایمان اور مذذب کمیونسٹوں " سے پاک کر دیا جائے۔ چنانچہ 1929ء میں مرکزی کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق ایک عام اخراج کا انتظام کیا گیا جس میں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار ممبر نکال دئیے گئے اور یہ تعداد اس وقت کے پارٹی ممبروں کی تعداد کا 50 فی صدی تھی۔ دوسرے کمیونسٹ ممالک کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ پھر سرمایہ دارانہ جراثیم کا سلسلہ یہاں بھی نہ رکا ۔ بلکہ وہ لوگ جنھیں "اشتراک کی محنت کے ہیرو " کا خطاب ملا تھا ، جو پچھلے چالیس سال سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک ایک سرمایہ دار کا خاتمہ کر رہے تھے ، جب پردہ اٹھا تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ بھی بورژوا کے انڈے بچے ہیں۔ سٹالن، مولوتوف ' بیرا لگا نووچ اور دوسری نمایاں ترین شخصیتیں محنت کش طبقہ کی دشمن اور سرمایہ داروں کی ایجنٹ نکلیں ۔ یہاں تک کہ آدھی صدی کی مار دھاڑ اور "عظیم اشتراکی تعمیر" کے باوجود کمیونسٹ سرزمین میں " سرمایہ داری کے بچے کچے عناصر" اب تک موجود ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ اس بچے کھچے عناصر کی معلوم فہرست میں کل کس کمیونسٹ لیڈر یا وزیر کا نام نکل آئے گا۔ مارکسزم کا یہ بہت بڑا تضاد ہے کہ ایک طرف وہ سرمایہ دار طبقہ کو گردن زدنی قرار دیتا ہے۔ کیونکہ وہ سماج کا دشمن ہے اور انتظام ملکی کی ذمہ داری مزدور لیڈروں کے سپرد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے خیال میں مزدور طبقہ ہی سماج کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ طبقہ ہے، وہ جدلیاتی شعور رکھتا ہے اس کو تاریخ نے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ " اپنی نجات کی کوشش میں سارے سماج کو نجات دے دے"، پھر کمیونسٹ پارٹی اس دودھ کا کتھن ہے، وہ محنت کش طبقہ کا ہراول دستہ ہے، وہ مزدوروں کی طبقاتی تنظیم کی اعلیٰ ترین شکل ہے، اس میں مزدور طبقہ کے بہترین عناصر جمع ہوگئے ہیں؛ اس لئے وہی اس قابل ہے کہ اس کے ہاتھ میں سماجی معاملات کی زمام کار دی جائے۔ مگر دوسری طرف مارکسزم کے علمبردار خود اپنے عمل سے مسلسل یہ ثابت کرتے رہے ہیں کہ اشتراکی نظریہ کی یہ تشریح صحیح نہیں ہے۔ مزدور طبقہ اور کمیونسٹ پارٹی دونوں اسی طرح بالکل ناقابلِ اعتبار ہیں جس طرح ان کے بیان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page