Urdu book · سوشلزم اور اسلام

تجرباتی تردید

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مطابق سرمایہ دار طبقہ ۔ مزدوروں کی معصومیت صرف اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک وہ بے بس ہوں۔ اسی طرح کمیونسٹوں کی حقیقت بھی صرف اسی وقت تک چھپی رہتی ہے جب تک ان کی سیرت ظاہر ہونے کا عملی موقع نہ ملے۔ جہاں کہیں موقع ملا وہ کسی اعتبار سے بھی سرمایہ داروں سے کم لٹیرے اور ظالم ثابت نہیں ہوتے۔ سب سے پہلے مارکس کے ہم عصر اشتراکیوں اور مزدور رہنماؤں کو لیجئے‘ وہ اگرچہ محنت کش طبقہ کے وکیل اور سوشلسٹ طرز پر زندگی کے مسئلہ کو حل کرنے کے علمبردار تھے مگر مارکس اور اینجلس نے ان کا مذاق اڑایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ لوگ سرمایہ داری کی اولاد ہیں، وہ نظریہ باز اور رجعت پسند ہیں۔ انھوں نے وقت کے ظالم حکمرانوں سے ساز باز کر رکھی ہے، وہ مزدوروں کے مقابلہ میں ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں وہ بورژوا پر تنقید کرتے ہیں۔ مگر عملی سیاست میں وہ مزدوروں پر جبر و تشدد کرنے والوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اور اپنے ذاتی مفاد کے لئے سرمایہ دار طبقہ سے مصالحت کر لیتے ہیں۔ ان کی اشتراکیت کا آخری مقصود صرف یہ ہے کہ مزدور کو مطمئن کر کے اسے سرمایہ دار کے خلاف کشمکش کرنے سے باز رکھیں تاکہ سرمایہ دار بے خوف و خطر اپنی لوٹ جاری رکھ سکیں۔ دوسری انٹرنیشنل (مزدور طبقہ کی بین الاقوامی جماعت) جو ۱۸۸۹ء میں قائم ہوئی جس میں تمام دنیا کے مزدور شریک تھے ‘ اشتراکی حضرات کے قول کے مطابق پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ایک دو کے سوا اس کے تمام نمائندوں نے مارکسی نظریات سے ”غداری“ کی۔ وہ لوٹنے کھسوٹنے والے سرمایہ داروں کے ایجنٹ بن گئے اور انھوں نے محنت کش طبقہ کے عالمی مفاد کے خلاف کام کیا اور ”نہایت شرمناک طریقہ پر“ تنظیم کو ختم کر دیا۔ انھوں نے ”موقع پرستی اختیار کی اور سیاسی سودے بازی“ میں مبتلا ہو گئے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی روسی مزدوروں کی جماعت جو انقلاب سے پہلے لینن کی رہ نمائی میں قائم ہوئی تھی‘ اس میں ایک بہت بڑا گروہ جو اگرچہ منشویک (اقلیت) کہا جاتا ہے مگر در حقیقت وہ نصف کے قریب تھا۔ ۱۹۱۳ء میں چوتھی دوما (زار کے زمانہ کی روسی پارلیمنٹ) منعقد ہوئی تھی اس میں منشویک کے نمائندے سات اور بالشویک کے صرف چھ تھے، جون ۱۹۱۴ء میں تمام ملک کے سوویتوں کی پہلی کانگریس منعقد ہوئی اس کانگریس میں بالشویک کے مقابلہ میں منشویک نمائندے اکثریت رکھتے تھے اس کا یہ حال ہوا کہ اس نے ” وقت کے براہیم مسئلہ پر مارکسزم سے انحراف کیا اور بالآخر انقلاب دشمنی کی راہ اختیار کی‘‘ پارٹی کی دوسری کانگریس (لندن ۱۹۰۳ء) میں یہ لوگ ایک گروہ کی شکل میں ظاہر ہوئے اور پراگ کانفرنس (۱۹۱۲ء) میں انھیں پارٹی سے خارج کر دیا گیا۔ اس کے چوٹی کے لیڈر جنھوں نے لینن کے ساتھ ’’عظیم اشتراکی انقلاب‘‘ کے لئے جدوجہد کی تھی، جو کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز تھے۔ انھوں نے ’’غداری‘‘ کی اور ایسے ایسے جرائم کے مرتکب ہوئے جن کی سزا قتل تھی۔ اس میں ” روس میں مارکسیست کا بانی “ جارج دی پلخونوف سے لے کر لینن کے بعد بالشویک پارٹی کا سب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page