Urdu book · سوشلزم اور اسلام

تجرباتی تردید

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹرا لیڈر ٹراٹشکی کمیساروں کی کمیٹی کا صدر کا مانیسٹو, ایکشن اور سینٹ پیٹرز برگ سوویت کا صدر زینو وایف ' اخبار پراودا کا چیف ایڈیٹر اور کنسٹرن کی انتظامی کمیٹی کا ممبر بخارن, ' ٹریڈ یونین کونسل کا صدر نو سکی جیسے لوگ شامل ہیں۔ یہ سب کے سب اپنی مذکورہ بالا حیثیتوں کے علاوہ پولٹ بیورو کے رکن بھی تھے' ان کے علاوہ بے شمار مزدور کسان اور کمیونسٹ خوداشترا کی بیان کے مطابق "غدار" اور "عوام دشمن" ہو گئے ۔ لینن کے بعد روسی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین لیڈروں میں سے کوئی بھی غداری سے نہیں بچا۔ یہی حال دوسرے ان تمام ملکوں کا بھی ہوا ہے جہاں کمیونسزم نے عملاً غلبہ حاصل کیا ہے۔ کمیونسٹ ممالک میں ایک برسراقتدار شخص کے سوا ہر ایک کی وفاداری مشتبہ رہتی ہے اور کسی بھی وقت وہ ہولناک جرائم کے الزام میں گرفتار کیا جا سکتا ہے اور جب اس صاحب اقتدار شخص کی حکومت ختم ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی سب سے بڑا غدار تھا۔ یہ اشتراکی ملکوں کے حالات ہیں جن کو خود اشترا کی حضرات بڑے زور شور کے ساتھ نشر کرتے رہتے ہیں۔ مگر یہ کہتے ہوئے شاید وہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح وہ خود اپنے نظریہ کی تردید کر رہے ہیں ۔ وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ خود غرضی اور لوٹ کھسوٹ میں مزدور طبقہ اور کمیونسٹ پارٹی کے لوگ کسی طرح بھی سرمایہ داروں سے پیچھے نہیں ہیں۔ جہاں آج سرمایہ دار طبقہ ہے وہاں اگر ان حضرات کو بٹھا دیا جائے تو سرمایہ داروں سے بڑھ کر ظالم اور لٹیرے ثابت ہوں گے۔ پھر ایسے نا قابل اعتماد لوگوں کے ہاتھ میں سارے ذرائع و وسائل کا چارج دینا کس طرح کسی بہتر نظام کا سبب بن سکتا ہے ؟ سیاسی جبر پھر اس تضاد کا سب سے زیادہ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ایک طرف اشتراکی ملکوں سے آئے دن "انقلاب دشمن" سرگرمیوں کی اطلاعات آتی رہتی ہیں. جن میں بے شمار آدمی جیل اور پھانسی کی سزا کے مستحق قرار دئے جاتے ہیں۔ دوسری طرف جب وہاں انتخابات ہوتے ہیں تو تمام سرکاری امیدوار صد فی صد ووٹوں سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔ گویا کہ وہاں جو لوگ برسر اقتدار طبقہ کے مخالف ہیں ان کی مخالفت صرف اس وقت کام کرتی ہیں جب ان کا دشمن ان کے سر پر مسلط ہو چکا ہو، اور جب اس دشمن کو آئینی طور پر بدلنے کا موقع آتا ہے تو وہ اپنی مخالفت کو ختم کر کے دوبارہ اپنے انھیں دشمنوں کے حق میں رائے دے کر انھیں صرفی صد ووٹوں سے کامیاب بنا دیتے ہیں۔ آپ اخبار میں پڑھیں گے کہ فلاں کمیونسٹ ملک میں وزیر کے مکان پر بم پھینکا گیا۔ "کمیونسٹوں کو قتل کر دو" کے نعرے لگائے گئے ۔ کمیونسٹ ریڈیو اعلان کرے گا کہ ملک میں ایک "انقلاب دشمن تنظیم" کا انکشاف ہوا ہے جو خفیہ طور پر تمام شہروں اور صوبوں میں کام کر رہی تھی جس کا مقصد کمیونسٹ حکومت کا تختہ الٹنا اور تمام کمیونسٹوں کو قتل کر دینا تھا ۔ آپ سنیں گے کہ ہزاروں آدمی اشتراکی جنت سے فرار ہو رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page