Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

مارکسی نظریہ، اسلام کی تردید

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

مارکسی نظریہ اسلام کی تردید ہے: پہلے سوال کا جواب یہ دیا گیا تھا کہ انسان ایک مادی وجود ہے۔ جس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بیج اگتا ہے، درخت بنتا ہے، پھل پھول لاتا ہے اور یہ سارے مراحل، زمین، ہوا، پانی اور گرمی کے عمل سے خود بخود انجام پاتے ہیں۔ اسی طرح انسان بھی کسی وقت ایک حقیر کیڑا تھا جو پانی سے پیدا ہوا، اور پھر تاریخ کے لمبے زمانوں میں مختلف جانداروں کی شکل اختیار کرتا ہوا بالآخر بندر بنا اور بندر سے انسان تیار ہوگیا۔ گویا یہ انسان جو دماغی اور جسمانی قوتوں سے بھر پور آج ہم کو نظر آتا ہے، اس کو مکمل صورت میں بنا کر کھڑا کر دینے کا کام کسی خالق نے نہیں کیا ہے بلکہ زندگی کے ابتدائی کیڑے پر ماحول کے مسلسل عمل نے خود ہی اس کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ مارکس نے اس مصرعہ اول پر اپنا مصرعہ ثانی لگایا۔ اس نے کہا کہ جس طرح انسان ایک لمبے مادی عمل کے ذریعہ خود انسان بن گیا ہے اور اس میں کسی فوق الفطری قوت کی کار فرمائی کا کوئی دخل نہیں ہے، ٹھیک اسی طرح زندگی کا قانون بھی کہیں باہر سے نہیں آئے گا۔ انسان کو ایک کامیاب زندگی حاصل کرنے کے لیے کسی خارجی رہنمائی کی ضرورت نہیں، کیوں کہ یہ کام بھی مادی عمل کے ذریعہ مسلسل انجام پا رہا ہے۔ جو لوگ خارج سے کسی دریافت کردہ اصول کو انسانی زندگی میں رائج کرنا چاہتے ہیں مارکس ان کو خیالی فلسفہ کا لقب دیتا ہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک در حقیقت ایسے کسی خارجی اصول کا وجود ہی نہیں ہے۔ اس کے نزدیک قانون کا ماخذ خود انسان کی اپنی زندگی ہے، نہ کہ کوئی بیرونی حقیقت۔ انسان کو اس کے مادی ماحول نے ایک حقیر کیڑے سے مکمل انسان تک پہنچایا تھا، اب اس کا معاشی ماحول اس کی زندگی کے صحیح ترین نظام کی طرف لے جا رہا ہے۔ ڈارون نے حیاتیاتی ارتقاء کی دنیا میں جو مقام مادہ کو دیا تھا، مارکس نے سماجی ارتقاء کی دنیا میں وہی مقام معاشی ذرائع و وسائل کو دیا۔ اس نے کہا کہ جس طرح مادہ کے ساتھ ایک لمبے تاریخی عمل نے کیڑے کو انسان بنا دیا ہے، ٹھیک اسی طرح ضروریات زندگی حاصل کرنے کے سلسلے میں انسان کی جد و جہد اور معاشی ذرائع و وسائل کی تبدیلیاں، یہی وہ عوامل ہیں جو انسانی زندگی کو مسلسل ارتقاء کی طرف لے جا رہی ہیں۔ زندہ رہنے کے لیے انسان کو جن چیزوں کی ضرورت ہے ان کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page