Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

خدا سے بغاوت کی نئی بنیاد

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

ملکیتیں ضبط کرنے کی اجازت دے دی۔ احتساب کی مذہبی عدالتیں قائم ہوئیں جو پوپ کے حکم کے مطابق ’’ان ملاحدہ اور مرتدین کو سزائیں دیں جو گھروں، تہہ خانوں، جنگلوں، غاروں اور شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔‘‘ ان عدالتوں نے نہایت بے دردی کے ساتھ سزائیں دینا شروع کیں۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ تقریباً تین لاکھ جانیں اس احتساب کی نذر ہوگئیں، جن میں ۳۲ ہزار آدمیوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ ان مرنے والوں میں ہیئت و طبیعیات کے مشہور عالم برونو (Brunoe) اور گلیلیو (Gallilio) جیسے لوگ بھی شامل ہیں۔ کلیسا کے ان وحشیانہ مظالم کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت کے اہل علم طبقہ کو مذہب سے ایک ضدی پیدا ہوگئی۔ انہوں نے کلیسا کا زور توڑنے کے لیے خدا ہی کا انکار کر دیا تا کہ وہ اصل چیز باقی نہ رہے جس پر کلیسا کا پورا وجود قائم ہے۔ سائنس بنام کلیسا کا اختلاف، سائنس بنام خدا کا اختلاف بن گیا۔ وہ بغاوَت جو ابتدا ء اء ایک بگڑے ہوئے مذہبی طبقے کے غلط اقتدار سے رہائی پانے کے لیے شروع ہوئی تھی وہ خود مالک کائنات کے اقتدار سے بغاوت بلکہ اس کے وجود سے انکار تک جا پہنچی۔ اس عمل کے بعد قدرتی طور پرانہیں زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت تھی۔ ایک یہ کہ اگر خدا کا کوئی وجود نہیں ہے تو خود انسان کیسے وجود میں آگیا؟ دوسرے یہ کہ انسانوں کی یہ بھیڑ جس کا اب کوئی آقا اور مالک نہیں ہے، اس کو راہ عمل کون بتائے، زندگی کے لیے قانون کا ماخذ کیا ہو؟ پہلے سوال کا جواب چارلس ڈارون (۱۸۸۲۔۱۸۰۹) نے دیا اور دوسرے کا جواب کارل مارکس (۱۸۸۳۔۱۸۱۸) نے۔ ڈارون کا جواب یورپ کی ابھرتی ہوئی قوموں کی خواہش کے عین مطابق تھا اس لیے وہ فوراً قبول کر لیا گیا۔ مگر مارکس کے جواب کو ماننے میں برسراقتدار طبقے کو اپنی موت نظر آتی تھی اس لیے وہ یورپ میں پھیل نہ سکا۔ اگر چہ ذہنی اعتبار سے اس نے جدید دنیا کے بڑے حصے کو متاثر کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو لییکی کی کتاب ’’تاریخ اخلاق یورپ‘‘ اور ڈاکٹر ڈریپر کی کتاب معرکہ مذہب و سائنس۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page