مارکسی نظریہ، اسلام کی تردید
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
حاصل کرنے کے دوران میں بالکل لازمی قانون کے تحت ایک اقتصادی دور وجود میں آتا ہے جو کچھ دنوں کام کرنے کے بعد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کے بطن سے دوسرا ایک زیادہ ترقی یافتہ دور پیدا ہوتا ہے۔ پھر یہ دور بھی ختم ہو کر ایک تیسرے اور زیادہ ترقی یافتہ دور کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔ اس طرح عہد بہ عہد ترقیوں کا یہ سلسلہ چلا جا رہا ہے۔ یہی اقتصادی ادوار گویا وہ سیڑھیاں ہیں جو انسان کو بہتر مستقبل کی طرف لے جا رہی ہیں۔ اور انہی کے ذریعہ انسانیت کی تاریخ معلوم کی جا سکتی ہے۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے مارکس لکھتا ہے: ” محنت کے اوزار بنانا اور استعمال کرنا اگر چہ کسی حد تک جانوروں کی بعض قسموں میں پایا جاتا ہے، مگر خاص طور پر انسانوں کے پیداواری عمل کی یہ امتیازی خصوصیت ہے۔ اسی لیے فرینکلن (Benjamin Franclin) نے انسان کی تعریف ’’اوزار بنانے والے‘‘ کے الفاظ سے کی ہے۔ گزرے ہوئے زمانے کے اوزار سماج کے ناپید اقتصادی ڈھانچوں کی تحقیق کے سلسلے میں اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی جانوروں کی ناپید قسموں کو جاننے کے لیے متجر ہڈیاں (Fossil Bones) ۔ سماج کے مختلف اقتصادی ادوار کا باہمی امتیاز اس زمانہ کی بنی ہوئی اشیاء سے نہیں معلوم ہوتا بلکہ اس کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کن اوزاروں کی مدد سے اور کس طریقہ سے بنائی گئی ہیں۔ آلات محنت نہ صرف ترقی کے اس درجہ کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں پر انسانی محنت پہنچی ہے بلکہ انہی سے ان سماجی حالات کا بھی پتہ چلتا ہے جن کے تحت وہ محنت کی گئی ہے لو۔ ’’ ارتقاء کا یہ سلسلہ آغاز انسانیت سے جاری ہے اور اب اس عمل کی تکمیل کے دن بہت قریب آگئے ہیں۔ قدیم غلام سماج اور جاگیرداری سماج کے بعد اب جو سرمایہ دارانہ سماج آیا ہے اس نے انسانی ارتقاء کے سفر کو تکمیل کے بہت قریب پہنچا دیا ہے۔ اب اس کے بعد بہت جلد یہ ہوگا کہ انسان اپنے آخری ارتقائی دور میں پہنچ جائے گا اور یہی اس کی آخری کامیابی ہے۔‘‘ Capital Vol. 1 PP. 179-80 (Moscow-1954)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader