مارکسی نظریہ، اسلام کی تردید
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
مارکس نے ۱۸۵۹ء میں اپنی مشہور کتاب ’’معاشیات پر ایک تنقیدی تحقیق‘‘ کے دیباچہ میں اپنے اس نظریہ کا خلاصہ مندرجہ ذیل الفاظ میں پیش کیا تھا: ’’...... میں اپنے مطالعہ سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قانونی تعلقات نیز ریاست کی مختلف شکلیں نہ تو خود ان کے اپنے مطالعہ سے سمجھ میں آسکتی ہیں اور نہ انسانی دماغ کی مفروضہ عام ترقی کے بل پر ان کو سمجھا جا سکتا ہے، بلکہ ان کی جڑیں زندگی کے مادی حالات میں مضبوط جمی ہوئی ہوتی ہیں جن کے مجموعہ کو ہیگل نے اٹھارھویں صدی کے برطانوی اور فرانسیسی مفکروں کی تقلید میں ’’مدنی سماج‘‘ (Civil Society) کے نام سے اکٹھا کر دیا ہے۔ اس مدنی سماج کی تسبیحی ساخت اقتصادیات میں پائی جاتی ہے۔ اقتصادیات کا یہ مطالعہ جو کہ میں نے پیرس میں شروع کیا تھا، برسلز میں بھی اس کو جاری رکھا...... اس مطالعہ سے جو نتیجہ میں نے اخذ کیا اور ایک بار اخذ کر لینے کے بعد جس کو میں نے مزید مطالعہ کے لیے رہنمائی کی حیثیت سے اپنے سامنے رکھا، اختصار کے ساتھ اس کو اس طرح پیش کیا جا سکتا ہے—’’سماجی طور پر ذرائع حیات کی پیداوار کے دوران میں لوگ لازمی طور پر ایک مخصوص قسم کے باہمی تعلقات میں وابستہ ہو جاتے ہیں اور یہ وابستگی ان کے اختیار سے باہر کی چیز ہوتی ہے۔ یہ پیداواری تعلقات ان کی مادی پیداواری طاقتوں کے ارتقاء کی مخصوص منزل سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ ان پیداواری تعلقات کا مجموعہ ہی سماج کے اقتصادی ڈھانچہ کی تشکیل کرتا ہے۔ یہی ڈھانچہ دراصل وہ بنیاد ہے جس پر قانونی اور سیاسی عمارت تعمیر ہوتی ہے اور جس کے مطابق سماجی شعور کی مخصوص شکلیں نمودار ہوتی ہیں۔ زندگی کی مادی ضروریات حاصل کرنے کے طریقے، زندگی کے تمام سماجی، سیاسی اور ذہنی عمل کی شکل معین کرتے ہیں۔ انسان کا شعور اس کی ہستی کو متعین نہیں کرتا بلکہ اس کے برعکس یہ اس کی ہستی ہے جو اس کے شعور کو معین کرتی ہے۔ اپنی ترقی کے ایک خاص مقام پر پہنچ کر سماج کی مادی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader