Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

مارکسی نظریہ، اسلام کی تردید

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

پیداواری طاقتیں اپنے زمانے کے پیدا واری تعلقات کی ضد بن جاتی ہیں۔ بالفاظ دیگر، ملکیت کے ان تعلقات سے ٹکرا جاتی ہیں جن کے اندر وہ پہلے کام کرتی رہی ہیں ـــــــــ پیداواری طاقتوں کے مزید ارتقاء کا ذریعہ بنے رہنے کی جگہ یہ تعلقات ان طاقتوں کے لیے پیر کی بیڑیاں بن جاتے ہیں۔ تب انقلابی دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اقتصادی بنیادوں کے بدلتے ہی کم و بیش سماج کا پورا ڈھانچہ نہایت تیزی سے تبدیل ہو جاتا ہے ۔ ان تغیرات پر غور کرتے وقت پیدا وار کے اقتصادی حالات میں مادی تبدیلیوں کے درمیان ــــــــ جن کا تعین پوری صحت کے ساتھ کیا جاسکتا ہے ــــــــ اور قانونی، سیاسی، مذہبی، جمالیاتی، فلسفیانہ ـــــــــ مختصر یہ کہ نظریاتی شکلوں کے درمیان جن سے کہ انسان اس جد و جہد کا شعور پاتا ہے اور یہ جنگ لڑتا ہے ہمیشہ امتیاز کرنا ضروری ہے۔ جس طرح کسی شخص کے بارے میں ہماری رائے کی بنیاد یہ نہیں ہوتی کہ وہ خود اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے، اسی طرح ہم کسی عہد کے تغیر کو خود اس زمانے کے شعور سے نہیں سمجھ سکتے۔ ان کا یہ شعور مادی زندگی کے اضداد کا مطالعہ کر کے ہی سمجھ میں آ سکتا ہے۔ اس جدوجہد پر غور کرنے سے جو کہ سماج کی پیدا واری طاقتوں اور پیدا واری تعلقات کے درمیان موجود ہے، تمام پیدا آور قوتوں کی اپنی گنجائش کے مطابق ترقی پا جانے سے پہلے کبھی کوئی سماجی نظام نا پید نہیں ہوا۔ اور اسی طرح پیدا وار کے جدید اعلیٰ تعلقات بھی اس وقت تک وجود میں نہیں آتے جب تک کہ وہ تمام مادی حالات جو کہ اس کے وجود کے لیے نہایت ضروری ہیں، خود پچھلے سماج کے بطن میں اچھی طرح پرورش نہ پاچکے ہوں۔ اسی لیے نوع انسانی اسی فرض کو اپنے ذمہ لیتی ہے جسے وہ حل کر سکتی ہے، کیوں کہ اس مسئلہ کو زیادہ غور سے دیکھا جائے تو ہم پائیں گے کہ خود غرض اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ اس کے حل کے لیے ضروری مادی حالات پہلے سے موجود ہوں یا کم از کم ترتیب و تشکیل کی حالت میں ہوں۔ سادہ الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page