مارکسی نظریہ، اسلام کی تردید
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
پیداوار کے تمام تاریخی طریقے یعنی ایشیائی، قدیم جاگیری اور موجودہ بورژوا پیداواری طریقے، یہ سب سماج کے اقتصادی نظام کی ترقی کے دور میں بورژوا پیداواری تعلقات، پیداوار کے سماجی عمل میں آخری مخاصم تعلقات ہیں۔ متخاصم انفرادی معنوں میں نہیں بلکہ ان تعلقات کی ایسی خصوصیتیں جو کہ سماجی زندگی کے حالات کی پیداوار ہیں، لیکن یہ پیداواری طاقتیں جو بورژوا سماج کے بطن میں پرورش پا رہی تھیں، بیک وقت ان مادی حالات کو بھی وجود میں لا رہی ہیں جن کے ذریعہ سے یہ کشاکش دور ہو جائے گی اور اس طرح اس سماجی نظام کے ساتھ انسانی سماج کا ماقبل تاریخی دور (prehistoric age) بھی ختم ہو جائے گا۔“ اس مارکسی فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ صنعت و زراعت وغیرہ جن سے انسان اپنے لیے کھانا کپڑا اور دوسری چیز حاصل کرتا ہے، ان کی حیثیت محض ضروریات زندگی حاصل کرنے کے ذریعہ کی نہیں ہے بلکہ انہی سے انسانی شعور کی تربیت ہوتی ہے، اور یہی زندگی کے تمام شعبوں کو ایک مخصوص شکل عطا کرتے ہیں۔ پیداوار حاصل کرنے کے جو ذرائع ہیں وہ اپنی پیداوار خود بخود انسان کی طرف منتقل نہیں کر دیتے بلکہ کچھ اوزار ہوتے ہیں جن کو لے کر آدمی ان پر اپنا عمل کرتا ہے۔ یہ اوزار ہمیشہ ایک قسم کے نہیں رہتے بلکہ بدلتے رہتے ہیں۔ یہی تبدیلی وہ بنیادی چیز ہے جو خود سماج کو بھی بدل دیتی ہے۔ کسی زمانہ میں انسان پتھر کے اوزار سے کام لیتا تھا، اس کے بعد مختلف تبدیلیاں ہوتی رہیں، یہاں تک کہ اب بڑی بڑی مشینوں سے کام لیا جاتا ہے۔ پیداوار حاصل کرنے کے طریقہ میں یہ تبدیلیاں ہی دراصل وہ چیزیں ہیں جو انسانی زندگی کو بھی تبدیل کرتی رہتی ہیں اور سماج کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لے جاتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں پیداوار حاصل کرنے کی تاریخ خود انسانی سماج کے ارتقاء کی تاریخ ہے۔ جدید مشینی انقلاب سے پہلے یہ تھا کہ انسان چھوٹے چھوٹے اوزار سے کام لیتا تھا، تھوڑے سے سرمایہ سے انفرادی طور پر الگ الگ کاروبار کرتا تھا۔ اس صورت حال Karl Marx, Selected Works V. 1- P. 300-1 (MASCOW-1946)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader