مارکسی نظریہ، اسلام کی تردید
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
نے انفرادی ملکیت کا تصور پیدا کیا۔ کیوں کہ اس وقت واضح طور پر معلوم ہو سکتا تھا کہ کون سی چیز کس کی ہے اور کس نے کس چیز کی تیاری میں کتنی محنت صرف کی ہے۔ اسی انفرادی قبضہ سے وہ تمام تصورات پیدا ہوئے جن کو مذہب اور اخلاق کہا جاتا ہے۔ یعنی خدا اور تقدیر پر یقین، تاکہ جو جس کے پاس ہے وہ اسی کا سمجھا جائے۔ ایک دوسرے کے مال و املاک کا احترام تا کہ ایک شخص کی دولت دوسرا چھینے کی کوشش نہ کرے۔ شادی، خاندان اور عزیز واقارب کے حقوق کا تصور تا کہ ایک مرتبہ جس کے پاس جو کچھ آ گیا ہے وہ وراثت اور ایتاء حقوق کے ذریعہ اسی خاندان میں باقی رہے۔ گویا یہ تمام اخلاقی تصورات جو پیدا ہوئے وہ بذات خود کوئی چیز نہ تھے اور نہ خارج سے کسی نے ان کو اصول کے طور پر بھیجا تھا۔ یہ انسانی ذہن میں ان معاشی حالات کا عکس تھے جو بالفعل سماج کے اندر موجود تھے اور جن سے صرف مالکوں کے طبقہ کا فائدہ ہو سکتا تھا۔ سماج کے اندر دو طبقات، مالک اور غیر مالک کی تقسیم اور مالک کا یہ چاہنا کہ جو کچھ اسے مل گیا ہے وہ اسی کے پاس رہے۔ یہی وہ حالات تھے جنہوں نے مذہب و اخلاق کو جنم دیا، جو جان و مال کے احترام کا سبق دیتے ہیں اور اسی نے قانون اور ریاست کو وجود دیا، جس کا کام یہ ہے کہ پولیس اور عدالت کے ذریعہ ملکیتی طبقہ کا تحفظ کریں۔ یہی مالک اور غیر مالک کی تقسیم وہ بنیادی خرابی ہے جو انسانیت کو نامعلوم زمانہ سے جنگ ، بدامنی اور افلاس میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ یہی وہ تمام مصیبتوں کی جڑ ہے۔ لیکن مشینی انقلاب نے ان مادی حالات کو بدل دیا ہے جن میں اب تک انسان جکڑا ہوا تھا۔ اس انقلاب نے محدود ذرائع پیداوار کو ترقی دے کر اس کو بڑی پیدا آور قوتوں میں تبدیل کر دیا۔ اب کسی چیز کو تیار کرنے میں صرف ایک شخص کا ہاتھ کام نہیں کرتا، بلکہ مشینوں کی مدد سے بے شمار آدمی مل کر ایک چیز تیار کرتے ہیں۔ جولاہے کے کرگھے اور چرغے کی جگہ سوت کا تنے اور کپڑا بننے کی بڑی بڑی مشینوں نے لے لی ، لوہار کے ہتھوڑے کی جگہ بھاپ سے چلنے والے مشینی ہتھوڑے استعمال ہونے لگے۔ کاریگروں کی چھوٹی چھوٹی دکانوں کے بدلے بڑی بڑی فیکٹریاں قائم ہو گئیں جہاں ہزاروں مزدوروں کا ایک ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہو گیا۔ ذرائع پیداوار کی طرح خود پیداوار میں بھی نمایاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader