مارکسی نظریہ، اسلام کی تردید
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
تبدیلی ہوئی ۔ ایک شخص سارے کام کرنے کی جگہ صرف ایک ہی مخصوص کام کرنے لگا۔ اب جو جنس مثلاً: سوت، کپڑا، اور دھات کی چیزیں فیکٹری سے بن کر نکلتی ہیں وہ مزدوروں کی مشترک محنت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ کیونکہ انہیں تیار کیے جانے میں مختلف مزدوروں کے ہاتھ سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان اجناس کے بارے میں اب کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کو تنہا اسی نے بنایا ہے۔ اس طرح انقلاب نے پیداوار کو انفرادی نوعیت سے نکال کر اجتماعی نوعیت دے دی ہے۔ دوسری طرف اس انقلاب نے سماج کو ایک بہت بڑے تضاد میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب تک یہ تھا کہ آلات محنت کا مالک ہی پیداوار کا مالک ہوتا تھا، کیوں کہ وہ اس کی محنت کا حاصل ہوتا تھا۔ لیکن نئے حالات میں بھی آلات محنت کا مالک اس کے حاصل کا مالک بنا ہوا ہے ۔ حالانکہ اب وہ اس کی محنت کا حاصل نہیں رہا۔ بلکہ دوسروں کی محنت کا حاصل بن گیا ہے۔ پیداوار اپنی حقیقت کے اعتبار سے اجتماعی ہو چکی ہے مگر ملکیت کا وہی انفرادی طریقہ اب بھی رائج ہے جو پہلے تھا۔ پیداوار اور اس کی تقسیم کے اسی تضاد میں انسانیت کے تمام مسائل کا حل چھپا ہوا ہے۔ مشینی ترقی سے یہ تضاد بڑھتا جائے گا اور بالآخر یہ ہوگا کہ محنت کش طبقہ جو پیدا اور تیار کرتا ہے مگر پیداوار کا مالک نہیں ہے، وہ سرمایہ دار طبقہ کے خلاف بغاوت کر دے گا جو پیدا وار کا مالک بن گیا ہے حالانکہ پیداوار کو تیار کرنے میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ تاریخ میں اس سے پہلے بھی اس طرح کے تضادات ہوتے رہے ہیں مگر اس سے پہلے یہ تضاد کبھی اتنا واضح اور نمایاں نہیں ہوا تھا۔ اس بغاوت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ذرائع پیداوار افراد کے ہاتھ سے نکل کر ان لوگوں کے قبضہ میں چلے جائیں گے جو ان پر محنت کرتے ہیں، جو ان کے حقیقی مالک ہیں۔ اس طرح ذرائع پیداوار پر سماج کا قبضہ ہو جائے گا۔ اس تبدیلی سے وہ تمام اصول اور قوانین بھی بدل جائیں گے جو ملکیتی طبقہ کی حفاظت کے لئے پچھلی تاریخ میں گھڑے جاتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ پولیس اور فوج بھی ختم ہو جائے گی جو صرف اس لیے وجود میں آئی تھی کہ ملکیتی طبقہ کے مفاد کا تحفظ کرے۔ جب سب مالک ہو جائیں گے تو سب کی حیثیت یکساں ہوگی ، پھر کون کس کے خلاف تحفظ چاہے گا، کون کس پر زیادتی کرے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader