Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

مارکسی نظریہ، اسلام کی تردید

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

پچھلی تاریخ میں بھی اس طرح کی طبقاتی جنگیں ہوتی رہی ہیں جو انسان کو حقیقت سے قریب کرتی رہی ہیں۔ اب یہ جنگ آخری طور پر انسان کو حقیقت تک پہنچادے گی۔ پہلے آدمی بالکل الگ الگ اپنی ذاتی محنت سے کام کرتا تھا۔ پھر انقلاب آیا اور ابتدائی تعاون کی شکلیں پیدا ہوئیں۔ اس کے بعد مزید تبدیلی ہوئی اور کارخانہ داری شروع ہوئی اور اب انسان بڑے پیمانے کی انڈسٹری کے آخری دور میں پہنچ گیا ہے۔ اس آخری انقلاب نے یہ امکان پیدا کر دیا ہے کہ پیدا وار حاصل کرنے کے ذرائع انفرادی قبضہ سے نکل کر سارے سماج کے قبضہ میں چلے جائیں۔ اس طرح وہ چھین جھپٹ خود بخود ختم ہو جائے گی جو مالک اور غیر مالک کے درمیان تھی۔ قانون کے وہ مظالم بھی ختم ہو جائیں گے جو ملکیتی طبقہ کی طرف سے محروم طبقہ پر کیے جارہے تھے۔ غرض اس معاشی نظام کی غلامی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی جو سماج کو دو طبقوں میں تقسیم کیے ہوئے تھا، جو ساری مصیبتوں کا اصل سبب تھا۔ انسان مستقل کشاکش سے نکل کر ابدی آرام کی زندگی میں داخل ہو جائے گا۔ انفرادی ملکیت کے طریقے نے جو مادی ماحول پیدا کیا تھا اس میں کچھ لوگوں کو اپنی ملکیت کی حفاظت کرنی ہوتی تھی، اس لیے خود غرضی کا تصور پیدا ہوتا تھا۔ کچھ طاقت ور تھے اور کچھ لوگ کمزور، اس لیے بے بسی اور محرومی کا تصور پیدا ہوتا تھا۔ ایک طرف ظلم تھا اور دوسری طرف مظلومیت، اس لیے چھین جھپٹ اور کش مکش پیدا ہوتی تھی۔ اجتماعی ملکیت کے نظام میں یہ مادی ماحول بالکل بدل جائے گا، اس لیے اس قسم کے تصورات کی پیدائش بھی ختم ہو جائے گی۔ انسان باہمی تعاون اور سکون واطمینان کی ایک نئی فضا میں سانس لینے لگے گا۔‘‘ مارکس کا یہ نظریہ جو ہم نے اوپر بیان کیا، صداقت کے بعض اجزاء سے خالی نہیں ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ انسان اپنی معاشی زندگی اور وقت کے حالات سے متاثر ہوتا ہے اور بعض اوقات اپنے ماحول کے خلاف سوچنا اس کے لیے دشوار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف انسانوں اور مختلف گروہوں کے مفاد میں بعض اوقات تضاد پیدا ہو جاتا ہے اور وہ باہم ٹکرا جاتے ہیں۔ یہ باتیں کوئی نئی اور انوکھی باتیں نہیں ہیں۔ اگر مارکس صرف اسی قدر کہتا تو اس میں کسی کو اختلاف کی گنجائش نہیں تھی۔ مگر جو چیز محض انسان کی عادت یا اتفاقی حالات سے تعلق رکھتی ہے اسی کو وہ انسان کی اصل حیثیت قرار دیتا ہے اور اسی کی روشنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page