سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
میں مسئلہ انسان کا مطالعہ شروع کر دیتا ہے۔ وہ ان واقعات کو نفسیات کا موضوع نہیں بناتا بلکہ فلسفہ کا موضوع بناتا ہے۔ وہ انہی معمولی چیزوں کو لے کر ان سوالات کا جواب دینا شروع کر دیتا ہے کہ انسان کیا ہے، پوری کائنات کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے، اس کے لیے قانونِ زندگی کا ماخذ کیا ہونا چاہیے، انسانیت کی تکمیل اور آخری کامیابی حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہم مارکسزم کو غلط سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مارکسی تجزیہ کی بہت سی چیزیں جو بظاہر جزوی صداقتوں کی حامل نظر آتی ہیں، وہ بھی مارکسی فلسفہ کے چوکھٹے میں بے معنی ہو جاتی ہیں اور اپنی اصل حیثیت میں ان کا کوئی وزن باقی نہیں رہتا۔ پہلا اختلاف: اس حیثیت سے دیکھیے تو یہ نظریہ کھلا ہوا اسلامی نظریہ کی ضد ہے۔ اس نظریہ کو ماننے کے معنی لازمی طور پر یہ ہیں کہ: ۱۔ انبیاء علیہم السلام کی رہنمائی میں اٹھنے والی تحریکیں صرف معاشی محرکات کا نتیجہ قرار پائیں۔ گویا ان کی نوعیت یہ نہیں تھی کہ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی مرضی کا علم دینا چاہتی تھیں، جس علم کی معرفت اور اس کے عمل پر انسانی مستقبل کا انحصار ہے بلکہ یہ تمام تحریکیں وقت کے معاشی حالات کی پیداوار تھیں ۔ ان نفوسِ قدسیہ نے اپنے وقت کے غلط کار لوگوں سے جو مقابلہ کیا اس کی حیثیت حق و باطل کی جنگ کی نہیں تھی بلکہ یہ تاریخ کی ان طبقاتی لڑائیوں کے سلسلہ کی کڑیاں تھیں جو انسانی سماج کی ابتداء سے زمین پر چلی آرہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، یہ خدا کا پیغام پہنچانے کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ محض اپنے معاشی مفاد اور خود غرضانہ مقاصد کے حصول کی کوششیں تھیں۔ چند افراد نے اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے وحی و رسالت کا ڈھونگ کھڑا کر لیا تھا۔ چنانچہ مارکس اور انگلس کے کمیونسٹ مینی فیسٹو میں کہا گیا ہے: Manifesto P. 61 (MOSCOW- 1949)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader