پہلا اختلاف
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
قانون، اخلاق، مذہب، سب بورژوا کی فریب کاری ہے جس کی آڑ میں اس کے بہت سے مفادات چھپے ہوئے ہیں۔“ مذہب سارے انسانوں کو خلق اللہ قرار دیتا ہے، وہ سب کو ایک حیثیت دینا چاہتا ہے۔ مگر مارکسی فلسفہ کے مطابق، جب سماج میں ظالم اور مظلوم دو طبقات موجود ہوں، جیسا کہ وہ ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ ایسی حالت میں سب کو ایک حیثیت دینے کی کوشش کرنا مظلوم کے مقابلہ میں ظالم کی مدد کرنا ہے۔ اس لیے ایسی تمام اخلاقیات جانب داری کی اخلاقیات ہیں۔ صحیح انسانی اخلاق وہ ہے جو صرف مظلوم طبقہ کی حمایت کرتا ہے۔ اس تصور کے مطابق، مارکسزم تمام مذہبی اور اخلاقی نظریات کا انکار کرتی ہے اور ان کو صرف بورژوا کی مکاری قرار دیتی ہے۔ نوجوان کمیونسٹ لیگ کی تیسری کل روس کانگریس منعقدہ ۲ اکتوبر ۱۹۲۰ میں لینن نے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہ ’’کمیونسٹ اخلاق کو نہیں مانتے‘‘ کہا: ’’ہم کن معنوں میں اخلاقیات کے منکر ہیں، ان معنوں میں کہ وہ بورژوا طبقہ کی طرف سے پیش کیے گئے ہیں، جو اخلاقی اصول کو خدا کے احکام و ہدایات سے اخذ کرتا ہے۔ یقیناً ہم خدا کو نہیں مانتے۔ ہم خوب جانتے ہیں کہ ارباب کلیسا، زمین دار اور بورژوا طبقہ جو خدا کے حوالہ سے کلام کرتے ہیں وہ محض استحصال کرنے والے کی حیثیت سے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں....... ہم ایسے تمام اخلاقی ضابطوں کا انکار کرتے ہیں جو انسانوں سے ماوراکسی مافوق طاقت سے اخذ کیے گئے ہوں یا طبقاتی تصور پر مبنی نہ ہوں۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ ایک دھوکا ہے، ایک فریب ہے، زمین داروں اور سرمایہ داروں کے مفاد کے لیے مزدوروں اور کسانوں کی فکر پر پردہ ڈالنا (befogging of the minds) ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارا ضابطہ اخلاق تمام تر صرف پرولتاریہ کی طبقاتی جد و جہد کے تابع ہے۔ ہمارے اخلاقی اصول کاماً خذ پرولتاریہ کی طبقاتی جدوجہد کا مفاد ہے۔ پرانا سماج زمینداروں اور سرمایہ داروں کی طرف سے مزدوروں اور کسانوں کی لوٹ پر قائم تھا۔ ہمیں اس کو تباہ کرنا ہے، ہمیں اس نظام کا تختہ الٹنا ہے، مگر اس کے لیے ہمیں اتحاد پیدا کرنے کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader