سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
ضرورت ہے۔ خدا اس قسم کا اتحاد پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ اتحاد صرف کارخانوں اور صنعت گاہوں کے ذریعہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اس کو صرف پرولتاری طبقہ پیدا کر سکتا ہے جو تربیت یافتہ ہے اور جو لمبے خواب سے جاگ اٹھا ہے... صرف یہی طبقہ محنت کش عوام کو منظم کر سکتا ہے، ان کی صف بندی کر سکتا ہے، قطعیت کے ساتھ مقابلہ کر سکتا ہے، پوری طرح مستحکم ہو سکتا ہے اور یقینی طور پر کمیونسٹ سماج کی تعمیر کر سکتا ہے۔ یہ سبب ہے جس کی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ انسانی سماج سے باہر اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں ہے، یہ ایک فریب ہے، ہمارا اخلاق وہ ہے جو پرولتاریہ کی طبقاتی جدوجہد کے تابع ہو‘۔ے دوسرا اختلاف اسی طرح سوشلسٹ فلسفہ مذہب کی اس حیثیت کو رد کرتا ہے کہ وہ انسان کو حق وصداقت پر قائم کرنے کی صراطِ مستقیم ہے۔ اس کے نزدیک یہ مظلوم طبقات کے خلاف ظالم طبقہ کی ایک سازش ہے۔ یہ ظلم اور استحصال کے نظام کو باقی رکھنے کی ایک مکروہ کوشش ہے جو حق وصداقت کے نام سے شروع کی گئی ہے۔ مذہب کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک دائمی صداقت ہے جس میں کبھی تبدیلی نہیں ہو سکتی، جو ہر زمانہ کے انسانوں کے لیے یکساں حیثیت سے ضروری ہے۔ مگر مارکسی فلسفہ اس کے برعکس ایسے کسی اصول کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ انسانی تاریخ کو مختلف تاریخی ادوار میں تقسیم کرتا ہے۔ اس کے نزدیک انسانی زندگی میں کسی دائمی صداقت کا کوئی سوال ہی نہیں کیوں کہ تمام اصول اور فلسفے کسی مخصوص اقتصادی دور کے تحت پیدا ہوتے ہیں اور جب کوئی اقتصادی دور ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا تو اس کے تحت پیدا شدہ فلسفے کس طرح ہمیشہ کے لیے ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہب و اخلاق کا درس محض اضافی نوعیت رکھتا ہے جو ہمیشہ وقت کے معاشی حالات کے تابع رہا ہے۔ تمام اصول و تصورات کسی مخصوص معاشی نظام کی حمایت کے لیے وجود میں آتے ہیں اور اس معاشی نظام کے بدلنے کے ساتھ خود بھی بدل جاتے ہیں۔ انسانی زندگی میں دائمی صداقت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ے لینن سلیکٹڈ ورکس، جلد دوم صفحہ ۶۸، ۶۷ (ماسکو ۱۹۷۲ء)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader