Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

دوسرا اختلاف

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسے اصول ہوسکتے ہیں جو تاریخ کے کسی مخصوص دور میں انسان کی رہبری کا کام دیں۔ لیکن ان کا کام ایک متعین زمانہ کے بعد ختم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد پھر وہ اصول کسی کام کے نہیں رہتے کیوں کہ بعد کے دور میں جب سماجی حالات بدل جاتے ہیں، اس وقت ان اصولوں میں بھی صداقت باقی نہیں رہتی جو قدیم سماجی حالات میں پیدا ہوئے تھے۔ اس نظریہ کے مطابق، اسلام کا زیادہ سے زیادہ اعتراف یہ ہے کہ اس کو ایک تاریخی چیز مان لیا جائے جو صدیوں پہلے انسانی ترقی کے ایک قدیم دور کی پیداوار تھا، جس کی قدر و قیمت اپنے تاریخی دور کے لیے خواہ کچھ ہو مگر انسانی تہذیب ترقی کرتے کرتے اب جس دور تک پہنچی ہے اس میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انسانیت کی تکمیل کے لیے اب اس سے روشنی حاصل کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ جس دور تہذیب کی پیداوار ہے اس وقت تک انسانیت کی تکمیل ہی نہیں ہوئی تھی۔ وہ تو سفر ارتقاء کے ابتدائی زمانہ کی یادگار ہے، نہ کہ دورِ تکمیل کی پیداوار— پھر آج کی دنیا میں ایسے کسی نظریہ سے رہنمائی حاصل کرنے کا کیا سوال ہے۔ ماضی کے نظریات، حال کے لیے بے کار ہیں اور حال کے نظریات مستقبل کے لیے بے کار ہوں گے۔ اسلام بھی اپنی قسم کے دوسرے نظریات کی طرح انسان کی عمرانی تاریخ کا ایک باب تھا جو اپنا وظیفۂ حیات پورا کرنے کے بعد ختم ہو چکا ہے۔‘‘ اینگلس نے اپنی کتاب ’’اینٹی ڈ یورنگ‘‘ کے ایک باب میں دائمی صداقت (eternal truths) کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تمام انسانوں کے نزدیک اخلاق کا کبھی ایک معیار نہیں رہا ہے۔‘‘ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے موجودہ سماج کے تین طبقے جاگیر دار، امراء، بورژوا اور پرولتاریہ سب اپنا ایک ضابطہ اخلاق رکھتے ہیں تو ہم صرف اسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے اخلاقی نظریئے، اپنے عملی تعلقات سے اخذ کرتے ہیں جن پر ان کا طبقاتی وجود قائم ہے۔ یعنی ان اقتصادی تعلقات سے جن کے اندر وہ پیدا وار اور تبادلے کا نظام قائم کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے: اس لیے ہم ہر ایسی کوشش کی تردید کرتے ہیں جس کا مقصد ہمارے اوپر کسی بھی اخلاقی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page