دوسرا اختلاف
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
عقیدہ کو دائمی صداقت کے طور پر مسلط کرنا ہو آخری اور ہمیشہ باقی رہنے والا اخلاقی قانون۔ اس حیلہ سے کہ (عالم مادی کی طرح) اخلاقی دنیا بھی اپنے مستقل اصول رکھتی ہے جو تمام قوموں اور تاریخ کے ہر دور میں یکساں حیثیت سے موجود رہتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ اب تک کے تمام اخلاقی نظریے، اپنے آخری تجزیہ میں وقت کے اقتصادی حالات کی پیداوار رہے ہیں، اور چونکہ سوسائٹی اب تک طبقاتی اختلاف کی طرف حرکت کرتی رہی ہے اس لیے اب تک کے تمام اخلاق بھی طبقاتی اخلاق رہے ہیں، اس میں وہ اخلاق بھی شامل ہے جو برسر اقتدار طبقہ کے تسلط اور اس کے مفاد کو جائز قرار دیتا ہے اور وہ اخلاق بھی جو دبے ہوئے طبقے کے بر سر اقتدار آنے تک موجودہ تسلط کے خلاف اس کی برہمی اور مستقبل میں اس کے مفاد کا اظہار کرتا ہے۔ اس عمل کے دوران میں اخلاقیات کا مجموعی طور پر ارتقاء ہو رہا ہے۔ جیسا کہ دوسرے انسانی علوم میں ارتقاء ہو رہا ہے۔ مگر ابھی تک ہم طبقاتی اخلاق کی حدوں سے پار نہیں ہو سکتے ہیں۔ ایک حقیقی انسانی اخلاق جو طبقاتی خصومت سے بلند ہو اور اس کے تذکرہ تک سے پاک ہو، اسی وقت ممکن ہوگا جب سوسائٹی ایسے مقام کو پہنچ جائے گی جہاں نہ صرف یہ کہ طبقاتی تضاد ختم ہو چکا ہو گا بلکہ عملی زندگی میں بھی وہ بالکل اسے بھلا دے گی۔ جو یہ کہتا ہے کہ ایسا بھی اخلاق ہو سکتا ہے جو وقت اور تبدیلی سے آزاد ہو اور ہر زمانہ میں جس کی تعمیل ضروری ہو، وہ ایک فرضی دعویٰ کرتا ہے کیوں کہ آج کوئی بھی نہیں جان سکتا کہ مستقبل کا سماجی ڈھانچہ کس قسم کا ہوگا‘‘۔ ۱۔ اینٹی ڈیو رنگ، صفحہ ۳۳-۱۳۱ (ماسکو ۱۹۵۴ء) — اس اقتباس کا آخری فقرہ انگلص کا لفظی ترجمہ نہیں ہے بلکہ اس کے مفہوم کی ترجمانی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader