تیسرا اختلاف
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
تیسرا اختلاف یہ سوشلست فلسفہ کا دوسرا جزء ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اندر ممکن ہے کچھ صداقت ہو مگر یہ صداقت کوئی ابدی صداقت نہیں ہے۔ اس کی جو کچھ بھی قدر و قیمت قرار دی جائے وہ محض وقتی قدر و قیمت ہوگی جو اپنے زمانہ کے لیے تھی اور اس زمانہ کے ختم ہونے کے ساتھ اس کی یہ قدر و قیمت بھی ختم ہو چکی ہے۔ بعد کے زمانوں میں اسلام کو پیش کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے اینٹ اور سیمنٹ کے موجودہ دور میں کوئی شخص بھٹ کے اندر زندگی گزارنے پر اصرار کرے۔ یہ نظریہ صرف انہی حیثیتوں سے دین حق کے ساتھ نہیں ٹکراتا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ شریعت الہی کی ضرورت ہی کا انکار کرتا ہے۔ اس کے نزدیک نہ تو اس کائنات کا کوئی خدا ہے اور نہ اس کی ضرورت کہ آدمی اس سے ہدایت حاصل کرے۔ اس نظریہ کو تسلیم کرنے کے بعد انسانیت کی تکمیل اور زندگی کو کامیابی تک لے جانے میں کسی مابعد الطبیعی نظریہ کا کوئی کام باقی نہیں رہتا۔ ہمارا ایمان ہے کہ انسان حقیقت تک اس کے بغیر نہیں پہنچ سکتا کہ وہ شریعت الہی اور رسول خدا کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا رہنما بنائے۔ مگر مارکسی تشریح کے مطابق، انسان کو اپنی زندگی کی تعمیر و ترقی کے لیے اس طرح کے کسی ہدایت نامہ کی سرے سے ضرورت نہیں، کیوں کہ وہ ایک مادی عمل کے ذریعہ خود ہی کامیابی کی طرف رواں دواں ہے۔ وہ کسی خالق اور رب کے بغیر مادی اسباب کے ذریعہ خود بخود انسانی شکل میں مجسم ہوا تھا اور اب معاشی عمل کے ذریعہ ایک ایسے مستقبل کی طرف سرگرم سفر ہے جہاں اس کی تکمیل ہو جائے گی، جہاں اسے وہ سب کچھ مل جائے گا جو وہ چاہتا ہے۔ گویا ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے خدا کے وجود سے انکار کیا تھا اور مارکسی فلسفہ وحی و رسالت کی ضرورت سے انکار کر رہا ہے۔ ایک نے خدا کو بے ضرورت ثابت کیا اور دوسرے نے خدا کے رسول کو۔ بلکہ ایک لحاظ سے مارکسزم ان دونوں نظریات کا مجموعہ ہے، کیوں کہ وہ ڈارون کے ذریعہ کو تسلیم کرتا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر اس کے اوپر اپنے نظریہ کی اگلی منزل تعمیر کرتا ہے اور اس کو زیادہ مکمل بنا دیتا ہے۔ مارکس کا رفیق کار فریڈرش انگلس اپنی کتاب ’’ سوشلزم۔ یوٹو پین اینڈ سائنٹفک‘‘ میں یہ بتاتے ہوئے کہ کس طرح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader