Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

تیسرا اختلاف

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

لمبے معاشی سفر کے بعد انسانی تاریخ ایک ایسے مقام پر پہنچی ہے کہ ’’ ذرائع پیداوار پر پوری سوسائٹی کا قبضہ ہو جائے، لکھتا ہے: ’’...... یہ امکان کہ اجتماعی پیداوار کی بدولت سوسائٹی کا ہر فرد ایسی زندگی بسر کرے کہ نہ صرف اس کی مادی ضروریات بخوبی پوری ہونے لگیں بلکہ ان کے لیے اس بات کی بھی ضمانت ہو کہ ہر فرد اپنی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو پوری آزادی کے ساتھ ترقی دے سکے، پہلی بار پیدا ہوا ہے۔ جب ذرائع پیداوار پر سوسائٹی کا قبضہ ہو جاتا ہے تو پھر اجناسِ تبادلہ کی پیداوار بھی ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی پیداوار کا اس کے پیدا کرنے والوں پر غلبہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ پیداوار کی انارکی ختم ہو کر اس کی جگہ پیداوار کی ہوش مندانہ تنظیم شروع ہو جاتی ہے، انفرادی بقاء کے لیے کش مکش بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اس وقت انسان پہلی بار حقیقی معنوں میں بقیہ حیوانی دنیا سے ہمیشہ کے لیے الگ ہو جاتا ہے اور زندگی کے خالص حیوانی دور سے نجات پا کر ایک حقیقی انسانی زندگی میں داخل ہو جاتا ہے۔ زندگی کا وہ پورا ماحول جو اب تک اس کا احاطہ کئے ہوئے تھا اور جواب تک انسان پر حکومت کرتا تھا، اب انسان کے ماتحت ہو گا۔ انسان پہلی مرتبہ فطرت کا باشعور آقا بنے گا، کیونکہ وہ اپنی مجلسی تنظیم کا آقا بن چکا ہو گا۔ انسان کی اپنی مجلسی سرگرمیوں کے قوانین جواب تک خارجی فطرت کے قوانین کی طرح اس کے بالمقابل تھے اور اس پر حکومت کرتے تھے، اس وقت پورے شعور کے ساتھ استعمال کیے جائیں گے اور انسان کا ان پر قبضہ ہو چکا ہوگا۔ انسان کی اپنی مجلسی تنظیم جس سے وہ اب تک اس حیثیت سے دوچار تھا گویا یہ ایک جبری حالت ہے جو قدرت اور تاریخ کی طرف سے اس کے اوپر عائد کر دی گئی ہے، اب اس کا اپنا اختیاری معاملہ بن جائے گی۔ وہ خارجی قوتیں جواب تک تاریخ پر غالب تھیں، انسان کے اپنے تصرف میں آ جائیں گی۔ صرف اسی مرحلہ پر پہنچ کر انسان مارکس انگلس سلیکٹڈ ورکس، جلد دوم صفحہ ۴۱۔ ۱۴۰۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page