تیسرا اختلاف
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے پورے شعور کے ساتھ اپنی تاریخ آپ بنائیں گے۔ صرف اسی مرحلہ پر پہنچ کر انسان کے حرکت میں لائے ہوئے مجلسی اسباب انسان کی اپنی مرضی کے مطابق، نتائج پیدا کریں گے۔ انسان احتیاج کی دنیا سے نکل کر اختیار کی دنیا میں داخل ہو جائے گا۔۷۱ یہ اشتراک کی فلسفہ کا تیسرا جز ء ہے جو اسلام کی ساری حیثیت کو ختم کر دیتا ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام زندگی کی شاہراہ ہے۔ وہ انسان کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ مگر یہ نظریہ بتاتا ہے کہ زندگی کے سفر میں اسلام کی کوئی حیثیت نہیں، وہ انسان کو منزل تک نہیں پہنچاتا۔ جو چیز ہمیں اپنی منزل تک پہنچاتی ہے وہ دولت کی پیداوار کا ایک خاص نظام ہے جو تاریخی اسباب کے تحت وجود میں آتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کی کامیابی کا راز کسی وحی خداوندی میں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے اسباب خود ہمارے سماجی حالات میں موجود ہیں اور مستقل طور پر اپنا کام کر رہے ہیں۔ جو کامیاب زندگی ہم چاہتے ہیں وہ انہی حالات کے اندر سے ایک روز برآمد ہوگی نہ کہ قانون پر عمل کرنے سے حاصل ہوگی۔ اوپر ہم نے مارکسی فلسفہ کا جو تجزیہ کیا ہے، اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مارکسزم اسلام کے بالمقابل اس کا ایک برعکس نظریہ ہے جس پر ایمان لانے کے بعد اسلام کا کوئی سوال باقی نہیں رہتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مارکسزم ۷۲ ایک مکمل غیر اسلامی نظریہ ہے جس کو اختیار کرنا ایمان و اسلام سے دستبردار ہونے کے ہم معنی ہے۔ چنانچہ فریڈرش انگلس نے ’’تاریخی مادیت‘‘ کے نظریہ پر بحث کرتے ہوئے ۱۸۹۲ میں کہا تھا: ’’اس عالم کے ارتقائی وجود میں آج کسی بادشاہ کسی خدا کے لیے مطلق کوئی جگہ باقی نہیں ہے اور کسی ایسی ہستی اعلیٰ (supreme being) کا تصور کرنا جو اس عالم موجودات سے الگ تھلگ ہو، اپنے اندر ایک عظیم اصطلاحی تضاد رکھتا ہے۔‘‘۷۳ ۱ واضح ہوکہ مارکسزم سے ہماری مراد صرف وہ باتیں نہیں جو مارکس نے خود اپنے ذہن سے تخلیق کی تھیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ایسی باتیں بہت کم ہیں بلکہ مارکسزم سے مراد وہ تمام افکار و نظریات ہیں جن کو مارکس نے اپنے پیشروؤں یا ہمعصروں سے لے کر مرتب کیا اور اس کو ایک جامع سوشلسٹ فلسفہ بنا دیا۔ ۲ کارل مارکس سلیکٹڈ ورکس، جلد دوم، صفحہ ۲۳ (ماسکوی ۱۹۴۶ء)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader