Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

تیسرا اختلاف

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

لینن نے لکھا ہے : " مارکسزم ، مادیت کا دوسرا نام ہے اور اس لیے یہ مذہب کی ویسی ہی سخت دشمن ہے جیسی اٹھارھویں صدی کی عام مادیت یا فیور باخ کی مادیت تھی۔ اس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں۔ مگر مارکس اور انگلس کی " جدلی مادیت" فیور باخ اور اٹھارھویں صدی کے دوسرے مادہ پرستوں سے آگے جاتی ہے، یہ مادی فلسفہ کو تاریخ اور عمرانیات پر استعمال کرتی ہے۔"۱ یعنی مارکس کا فلسفہ اور اس کی خدا بے زاری دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں کہ کوئی شخص خدا کے بارے میں ان اقوال کو اس کا ایک نجی معاملہ قرار دے کر اس فلسفے کو قبول کرے ، بلکہ انکارِ خدا ہی پر اس کے سارے فلسفہ کی بنیاد ہے۔ یہ ایک وحدت کے دورخ ہیں۔ مارکس نے مادی طرزِ فکر کو سماجی مسائل کا مطالعہ کرنے اور اس کا حل ڈھونڈھنے میں استعمال کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اس دنیا کا نہ تو کوئی خدا ہی ہے اور نہ وہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ مارکس الگ سے خدا کا انکار نہیں کرتا بلکہ اس نے جو فلسفہ مرتب کیا ہے، خود اس کے لازمی تقاضے کے طور پر خدا اور مذہب بالکل بے معنی ہو جاتے ہیں۔ سوشلزم اور اسلام کے فرق کو نہ سمجھنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سوشلزم کو عام طور پر صرف ایک معاشی نظریہ سمجھا جاتا ہے۔ اس تعبیر میں صداقت کا ایک جزء ہے۔ مگر حقیقتاً یہ ایک ناقص تعبیر ہے۔ سوشلزم زندگی کا ایک جامع تصور ہے، جس طرح اسلام زندگی کا ایک جامع تصور ہے۔ اسلام کے بارے میں جس طرح یہ کہنا صحیح نہیں ہو سکتا کہ وہ زندگی بعد موت کا ایک نظریہ ہے اسی طرح سوشلزم کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ وہ صرف ایک معاشی نظریہ ہے۔ زندگی کا معاشی یا سیاسی نظریہ بجائے خود کچھ نہیں کرتا۔ وہ دراصل اس بنیادی تصور کا عکس ہوتا ہے جو زندگی کے بارے میں طے کیا جاتا ہے۔ ہم کیا ہیں اور یہ کائنات کیا ہے؟ یہ ہماری زندگی کے بنیادی سوالات ہیں۔ ان سوالات کا جو جواب ہوگا اسی کی مناسبت سے زندگی کے سیاسی اور تمدنی نقشے بنائے جائیں گے۔ جو کچھ ہے وہ کیوں ہے؟ اس سوال ۱ لینن آن ریلیجن ، صفحہ ۲۱۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page