Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

تیسرا اختلاف

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

کا جواب متعین کرنے کے بعد ہی ہم یہ طے کر سکتے ہیں کہ جو کچھ ہونا چاہئے وہ کیا ہے۔ اسلام ان سوالات کا ایک جواب دیتا ہے جس کے لازمی نتیجہ کے طور پر زندگی بعد موت کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشلزم ان سوالات کا جواب دیتا ہے جس کے لازمی نتیجہ کے طور پر اس کا معاشی تصور سامنے آتا ہے۔ ایک اس کا فلسفہ ہے۔ دوسرا اس کا عملی نظام، دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ مذہبی نظریات کے ساتھ سوشلزم کے اصل فرق کو نہیں سمجھتے وہ عموماً اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ مذہب کے ساتھ سوشلزم کا اختلاف شاید ان اقوال سے ظاہر ہوتا ہے جو مارکس اور اس کے متبعین کی طرف منسوب ہیں۔ مثلاً ”مذہب عوام کی افیون ہے۔ خدا اور بادشاہ دو بہت ہیں“ یا پھر اس اختلاف کا ثبوت وہ واقعات ہیں جو کمیونسٹ ملکوں میں پیش آئے۔ یعنی مسجدوں اور گرجاؤں کو کلب گھر بنا دینا، مذہبی اوقاف کو ضبط کر لینا، اہل مذاہب کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانا، مذہبی تعلیم اور مذہبی شعائر کا خاتمہ کرنا، وغیرہ وغیرہ۔ اسی لیے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اقوال اگر چہ بہت سخت ہیں اور مذہب کے خلاف جو کارروائیاں کی گئیں وہ بھی بڑی ظالمانہ ہیں، مگر ان کا تعلق سوشلسٹ فلسفہ سے نہیں ہے۔ جہاں تک اقوال کا معاملہ ہے، اس میں شک نہیں کہ ان میں خدا اور تمام مذہبی تصورات پر سخت تنقید کی گئی ہے۔ مگر یہ تمام اقوال در اصل اس بگڑے ہوئے مذہبی نظام سے متعلق ہیں جو مارکس اور دوسرے اشتراکی مفکروں کے سامنے موجود تھا۔ یہ اقوال دراصل پاپائی نظام پر چسپاں ہوتے ہیں، نہ کہ صحیح مذہب پر۔ ان اقوال سے اگر قطع نظر کیا جائے تو اسلامی نقطہ نظر سے مارکسی فلسفہ میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ اسی طرح اشتراکی ممالک میں مذہب والوں پر جو مظالم کیے گئے ہیں ان کی بھی اتنی زیادہ اہمیت نہیں ہے جتنی بظاہر نظر آتی ہے۔ ان واقعات کی ذمہ داری کچھ تو اہل مذاہب پر ہے جو مذہب کی صحیح تعلیمات سے ہٹے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنے غلط اور دتیانوسی طرزِ عمل سے خود ہی اپنا وقار کھو دیا۔ اس لیے ان کے ساتھ جو کچھ پیش آیا ایک لحاظ سے وہ اسی کے مستحق تھے اور کچھ ذمہ داری ان واقعات کی ان حکمرانوں پر ہے جن کو کمیونسٹ نظام کا سربراہ کار بنایا گیا تھا۔ پھر بعض اشخاص نے اگر مشتعل ہو کر مذہب کے خلاف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page