تیسرا اختلاف
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ سخت اقدامات کیے تو اس سے اصل فلسفہ یا اس کے بانیوں کی غلطی کہاں ثابت ہوتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محض فریب ہے۔ ایسا کہنے والے لوگ یا تو سوشلست فلسفہ سے بے خبر ہیں یا جان بوجھ کر دوسروں کو فریب دینا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے، مارکسزم ایک مکمل نظریہ ہے جو مذہبی تصورات کے عین بالمقابل کھڑا کیا گیا ہے۔ مذہب زندگی کے بنیادی سوالات کی ایک تشریح ہے۔ وہ زندگی کو حقیقی کامیابی تک پہنچانے کا ایک پروگرام ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے، وہی سارے واقعات کا حقیقی سبب ہے۔ اسی نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے کچھ اصول بھیجے ہیں۔ یہی وہ اصول ہیں جو انسانی ارتقاء کی شاہراہ ہیں۔ جو ان اصولوں کو اپنی زندگی میں اختیار کرے گا وہ کامیاب ہوگا اور جوانہیں ترک کر دے گا وہ ناکام ہوگا۔ مارکسزم اس کے بالمقابل ان سوالات کی بالکل دوسری تشریح پیش کرتا ہے۔ وہ زندگی کی کامیابی کا ایک اور راز بتاتا ہے، وہ یہ کہ کائنات کے تمام واقعات کا آخری سبب مادی قوانین میں ہے۔ وہ صرف مادی حالت ہیں جنہوں نے انسان کو موجودہ شکل وصورت میں کھڑا کیا ہے اور پھر وہ مادی حالات ہی ہیں جو اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائیں گے۔ یہاں کوئی خدا نہیں ہے جس کی مرضی کو پالینا کامیابی ہو، نہ کوئی اصول ہیں جن کی پابندی کی جائے، بلکہ انسان کا اپنا مادی ماحول ہی وہ قوت ہے جو انسان کو سب کچھ بتاتا ہے اور وہی تمام تصورات کا خالق ہے۔ جو ایک خاص منطق کے مطابق ، اس کو کامیابی کی منزل کی طرف لیے چلا جارہا ہے۔ وہ مادہ ہے جس نے انسان کو خلق کیا ہے، وہ مادہ ہے جو انسان کو زندہ رکھے ہوئے ہے، وہ مادہ ہے جو انسان کو زندگی کے صحیح اصول دیتا ہے اور وہ مادہ ہی ہے جو انسان کو اس کی آخری کامیابی تک پہنچادے گا۔ ایسے ایک نظریہ کو ماننے کے بعد خدا اور مذہب کا کیا سوال باقی رہتا ہے؟

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader