Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

سوشلزم کا حل

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

سوشلزم کا حل اوپر ہم نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سوشلزم کا فلسفہ کس طرح اسلام کے فلسفہ سے متصادم ہے۔ خدا کے بغیر انسانی وجود اور اس کی زندگی کی تشریح کرنے کا یہ نظریہ بڑے دعووں کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اتنا بودا اور لغو تھا اور اس کے اندر اتنے تضادات تھے کہ فوراً ہی اس کا تارو پود بکھر گیا۔ جب اس کو عملی زندگی میں لایا گیا تو قدم قدم پر اس کی غلطیاں نمایاں ہونے لگیں۔ لوگوں نے دیکھا کہ اس کے اصولوں کو حقیقی صورتحال پر منطبق کرنا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ اس کے متن کی شرحیں لکھی جانے لگیں اور تاویلَات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ مارکسزم کی تشریح و توضیح جو انگلس کے وقت سے شروع ہوئی تھی، اب تک اس کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر اس سلسلہ میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس کو تشریح و توجیہ کے بجائے پوسٹ مارٹم کہنا زیادہ صحیح ہوگا کیونکہ اس نے اصل سوشلسٹ فلسفہ کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے، اور اس کو بدلتے بدلتے کچھ کا کچھ بناڈالا ہے۔ اب تک دنیا میں مذہب ہی ایک ایسا نظریہ تھا جو زندگی کے بارے میں ایک جامع تصور دیتا تھا، جو تمام واقعات اور موجودات کی تشریح کرتا تھا۔ مارکسزم تاریخ کی پہلی کوشش ہے جب کہ انسان نے مذہب کے تصور کو رد کر کے نئی بنیادوں پر زندگی کی تشریح کی اور اس کے بالمقابل ایک جامع فلسفہ مرتب کیا۔ اس سے پہلے بھی انسان مذہب کے پیش کیے ہوئے تصور سے انحراف کرتا تھا۔ مگر یہ انحراف صرف ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر ہوتا تھا جس کے پیچھے دلیل کی کوئی قوت نہیں تھی۔ مارکسزم تاریخ کی پہلی کوشش ہے جب کہ انسان نے فلسفہ واستدلال کی بنیاد پر اپنے خدا سے انحراف کیا ہے۔ مگر یہ نظریہ خواہ اصل مارکسی شکل میں ہو یا مارکس کے بعد اس کے متبعین کی تعبیرات کی شکل میں، ہر حالت میں اتنا لغو ہے کہ کبھی بھی وہ انسانی ذہن کو مطمئن نہیں کر سکتا۔ چنانچہ مسلمانوں نے بھی (چند سر پھروں کو چھوڑ کر) اس نظریہ کو کبھی اس حیثیت سے تسلیم نہیں کیا کہ وہ انسانی زندگی کی صحیح اور بہتر تشریح کرتا ہے۔ ان کا اسلامی شعور اس اعتبار سے سوشلزم کو قبول کرنے میں ہمیشہ بہت بڑا مانع رہا ہے۔ مگر اس نظریہ کے لازمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page