سوشلزم کا حل
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
تقاضے کے طور پر مارکس نے مسائل زندگی کے حل کے لیے جس تجویز کا حوالہ دیا تھا وہ بہت تیزی سے ساری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ اس حل کے پیچھے استدلال کی قوت اگر چہ وہی مادی فلسفہ تھا جو اور بیان کیا گیا اور حقیقت یہ ہے کہ اس مادی فلسفہ سے الگ کر دینے کے بعد اس کے حل کے کوئی معنی نہیں رہتے۔ مگر یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ لوگوں نے دلیل کو تسلیم نہیں کیا کیونکہ وہ غلط تھی مگر اس غلط دلیل سے جو نتیجہ بر آمد ہوتا تھا اس نتیجہ کو قبول کر لیا۔ مارکس کا حل بہت تیزی سے دنیا میں پھیل رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس حل کے پیچھے جو فلسفہ ہے اس نے لوگوں کو یقین دلا دیا ہے کہ اس کا تجویز کیا ہوا حل ہی انسانیت کے مسائل کو درست کر سکتا ہے، صورت حال اس کے برعکس ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت دنیا کی مثال ایک ایسے مریض کی ہے جو اپنی تکلیف دہ علالت سے اس قدر گھبرا اٹھا ہو کہ جو شخص بھی اسے ایک دوا بتا دے وہ اس کا تجربہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ سوشلزم کی مقبولیت کا راز اس کے فلسفہ میں نہیں ہے، بلکہ دکھی انسانیت کی اپنی بے قراری اس کا سبب ہے۔ یہی وہ شگاف ہے جس کے راستہ سے یہ مکمل الحادی فلسفہ انسانی آبادی میں نفوذ کر رہا ہے۔ بڑے بڑے کمیونسٹ تک اس سے اسی حیثیت سے متاثر ہوئے ہیں، نہ کہ اس کے مادی فلسفہ پر ایمان لاکر اس کی طرف بڑھے ہیں۔ برٹرینڈ رسل کے الفاظ میں ’’سوشلزم اور انار کزم کی اشاعت کا راز موجودہ انسانی دکھوں میں اس گہرے تعلق کی پیدائش ہے جس نے بے دست و پا مفکروں کی امیدوں کو سیاسی تحریکوں کا محرک بنایا۔ یہی سوشلزم اور انار کزم کی اہمیت کا راز ہے‘‘۔۱ امریکہ کا مشہور کمیونسٹ ادیب ہوورڈ فاسٹ (Howard Fast) پچھلی چوتھائی صدی سے کمیونسٹ پارٹی کی صفوں میں عالمی شخصیت کا مالک سمجھا جاتا تھا۔ ۱۹۵۶ء کے آخر میں اس نے کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت سے استعفادے دیا ہے۔ اس سلسلہ میں اپنے اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے وہ ایک مضمون میں لکھتا ہے: ۱ ماہنامہ تحریک (دہلی) جون ۱۹۵۷ء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader