Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

سوشلزم کا حل

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

”میں مارکسی اپنے شخصی فکری ڈھانچے ہی میں بنا، اور میرا خیال ہے کہ یہی حال بہت سے دوسرے لوگوں کا بھی ہے۔ مجھے (مستعفی ہونے کے بعد) مذہبی شخص کا نام دیا گیا ہے اگر چہ میں وسیع تر مفہوم میں اس سے انکار نہیں کرتا، لیکن میرے مذہب کا مرکز آدمی تھا، کوئی ماورائی قوت نہیں۔ اگر نیکی اور آدمی کی پر شکوہ تقدیر میں گہرا اور نا قابلِ تزلزل ایمان مذہب ہے تو مجھے مذہبی ہونے کا اعتراف کرنا چاہئے۔ میں نے کمیونسٹ پارٹی میں شرکت دو اسباب سے کی۔ مجھے یقین تھا کہ کمیونسٹ پارٹی صحیح انسانی اخوت کی ابتداء ہے اور صدق دل سے سوشلزم امن اور جمہوریت کے لیے کام کر رہی ہے۔ دوم، مجھے یقین تھا کہ کمیونسٹ پارٹی ہی فاشزم کی موثر مزاحمت کر رہی ہے۔ اس سلسلہ میں لاکھوں نیک دل اشخاص کی طرح مجھے یقین تھا کہ سوویت یونین کے دوست جو تصویر پیش کرتے ہیں ان میں سوویت یونین کے متعلق سچائی ہی بیان کی جاتی ہے۔“ سوشلزم نے اپنے فلسفہ کے تحت زندگی کا جو حل پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان جدوجہد کر کے اپنے معاشی حالات کو بدل ڈالے۔ جب انسان صرف ایک مادی مخلوق ہے تو اس کی حرکت اور تبدیلی کے قوانین بھی مادی ہونے چاہئیں۔ لوہے کو پرزے کی شکل دینے کے لیے اس کے اوپر ایک مخصوص مادی عمل کیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ڈھلے ڈھلائے پرزہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسی طرح انسان بھی ایک مادی مخلوق ہے اور اس کو دکھ اور مصیبت سے نکال کر بہتر انجام کی طرف لے جانے اور اس کو مستقل طور پر تمام آفات و خطرات سے پاک کر دینے کا کام بھی کسی مادی عمل ہی کے ذریعہ انجام پاسکتا ہے۔ یہ مادی عمل مارکس کے نزدیک معاشی پیداوار میں تبدیلی کا عمل ہے۔ وہ نظامِ پیداوار جو معلوم مدت سے انفرادی ملکیت پر مبنی چلا آرہا ہے اس کو بدل کر اجتماعی ملکیت کی شکل دے دینا یہی وہ عمل ہے جو انسان کو بدل دے گا۔ اس کو بدتر حالت سے بہتر حالت کی طرف لے جائے گا۔ ا ماہنامہ تحریک (دہلی) جون ۱۹۵۷ء

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page