سوشلزم کا حل
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ اجتماعی ملکیت کا حل جس کو مارکس نے ایک فلسفہ کی شکل دے دی ہے، دراصل یورپ میں صنعتی انقلاب سے پیش آنے والے حالات کا لازمی نتیجہ تھا۔ جب ظلم کی ایک حالت سامنے ہو تو اس وقت قدرتی طور پر لوگوں کی نفسیات یہ ہو جاتی ہے کہ وہ اس مخصوص حالت ہی کو ظلم کا اصل سبب سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہو جاتا ہے کہ اگر اس مخصوص حالت کو ختم کرکے اس کے برعکس حالت قائم کر دی جائے تو ظلم کا بھی خاتمہ ہو جائے گا، چنانچہ انیسویں صدی کی ابتدا میں جب بے قید کاروبار اور تجارت میں اندھا دھند مقابلے کی وجہ سے بہت سی خرابیاں رونما ہوئیں تو اس کے رد عمل کے طور پر لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ سرمایا اور دوسرے ذرائع پیداوار پر انفرادی قبضہ ہی ان تمام خرابیوں کا اصل سبب ہے۔ چنانچہ عام طور پر یہ رجحان پیدا ہونے لگا کہ انفرادی ملکیتوں کو ختم کرکے اجتماعی ملکیت کا نظام قائم کرنا چاہئے۔ اس عام احساس کو مارکس نے پوری طرح جذب کرکے اس کو زیادہ سے زیادہ مدلّل اور منظم طریقہ پر پیش کر دیا۔ مارکس کا یہی وہ کارنامہ ہے جس کی بنا پر سوشلزم کو اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور سوشلزم کے سائنٹفک تصور کا دوسرا نام ”مارکسزم“ پڑ گیا ہے۔ یورپ میں جس وقت یہ تصور ابھرا تو صورت حال یہ تھی کہ ایک طرف موجودہ الوقت صنعتی نظام تھا جو لوٹ کھسوٹ کی انتہائی بھیانک شکل اختیار کر گیا تھا۔ یہ نظام چونکہ انفرادی ملکیت کے تصور پر مبنی تھا اور اس کے وکیل انفرادی ملکیت ہی کے حوالہ سے اپنے برحق ہونے پر استدلال کر رہے تھے، اس لیے قدرتی طور پر اس کی یہ حیثیت ہو گئی۔ گویا یہی وہ نظام ہے جو انفرادی ملکیت کے تصور کے تحت پیدا ہوتا ہے، جس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ مسلمان خواہ وہ اسلامی تصورات کے عین برعکس کیوں نہ ہوں، مگر اسلام کے نام لیوا ہونے کی وجہ سے یہی اسلام کے حقیقی نمائندے سمجھے جاتے ہیں اور انہی کی زندگیوں کو دیکھ کر دنیا خود اسلام کے بارے میں رائے قائم کرتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح یورپ کا بے قید سرمایا دارانہ نظام اصولی طور پر انفرادی ملکیت کے نظریہ کا نمائندہ قرار پا گیا۔ دوسری طرف اجتماعی ملکیت کا تصور تھا جس نے ابھی تک کہیں عملی نظام کی شکل اختیار نہیں کی تھی، جو صرف ایک تمنا کے طور پر لوگوں کے دلوں میں ابھر رہا تھا۔ اس طرح یہ بحث جو دراصل ایک بگڑے ہوئے معاشی نظام اور اجتماعی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader