Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

ملکیت کے خیالی تصور کے درمیان تھی، نہایت آسانی سے انفرادی ملکیت کے نظام اور اجتماعی ملکیت کے نظام کی بحث بن گئی۔ ’’ انفرادی ملکیت کا نظام کیسا ہوتا ہے؟‘‘ اس کو سمجھنے کے لئے لوگ وقت کے معاشی نظام کو دیکھتے تھے اور ’’ اجتماعی ملکیت کا نظام کیسا ہوگا؟‘‘ اس کو سمجھنے کے لیے اس کے علمبردار مفکرین کے وہ دعوے تھے جو وہ اپنے خیالی نظام کی حمایت میں نشر کر رہے تھے۔ انفرادی ملکیت کے تصور کی نمائندگی کے لیے ایک بگڑا ہوا معاشی نظام تھا جو اپنی ساری خرابیوں کے ساتھ سامنے موجود تھا اور اجتماعی ملکیت کے تصور کی نمائندگی کے لیے صرف وہ خوبصورت لفظی تصویریں تھیں جو اس کے حامی پورے زور و شور کے ساتھ پیش کر رہے تھے۔ ان حالات میں قدرتی طور پر ایک ایسی فضا بن گئی کہ اب جو شخص انفرادی ملکیت کا نام لے وہ گویا انیسویں صدی کے سرمایہ دارانہ نظام کا حامی ہے اور جو شخص اجتماعی ملکیت کی باتیں کرے وہ گویا اس نظام کو لانا چاہتا ہے جو صحیح ترین معاشی نظام ہوگا، جو وقت کی تمام خرابیوں سے پاک ہوگا۔ انفرادی ملکیت کی حمایت وحشیانہ رجعت پسندی قرار پائی اور اجتماعی ملکیت کا نعرہ لگانے والوں کو روشن خیال اور انسانی بہتری کا علمبردار قرار دیا گیا۔ یہ صورت حال اہل مذاہب کے لیے بڑی سخت ثابت ہوئی ۔ یہ واقعہ ہے کہ مذہب اپنے چند خاص شرائط کے ساتھ ہمیشہ سے انفرادی ملکیت کا حامی رہا ہے۔ تمام مذاہب کے نزدیک کسی شخص کی ملکیت___ اگر وہ جائز ملکیت ہے___ قطعی طور پر محترم ہے اور اس کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔ مذاہب کی اسی تعلیم کی بنا پر مارکس کو مذہب کے خلاف سخت محاذ بنانا پڑا۔ وہ اپنے حامیوں کو جس ملکیتی نظام کا تختہ الٹنے کے لیے تیار کرنا چاہتا تھا اس کی پشت پر سب سے بڑی نظریاتی حمایت یہی مذہب کی تعلیمات تھیں۔ اس لیے اس نے کہا کہ مذہب کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ وہ ملکیتی طبقہ کا ڈھونگ ہے جس کو اس نے اپنی ملکیتوں کے تحفظ کے لیے گھڑ لیا ہے۔ اہل مذاہب کی سوشلزم سے مرعوبیت یہ حالات اس وقت پیش آئے جب کہ ابھی جلدی یورپ میں سائنس اور مذہب کے تصادم میں مذہب کو شکست ہوئی تھی اور اقتدار کا مرکز کلیسا کے ہاتھ سے نکل کر مادیت کے علمبرداروں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page