Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

اہلِ مذاہب کی سوشلزم سے مرعوبیت

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

ہاتھ میں چلا گیا تھا۔ کلیسا کے اوہام وخرافات، جن کو غلطی سے مذہب کا نام دے دیا گیا تھا اور جن کے تحفظ کے لیے طویل مدت تک جنگیں کی گئی تھیں، وہ سائنس کے جدید انکشافات کی روشنی میں بے بنیاد ثابت ہو چکے تھے۔ ان حالات کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ سوسائٹی کے اوپر سے مذہب کا وہ اقتدار ختم ہو گیا جو مدت دراز سے چلا آ رہا تھا۔ دوسرا اس سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اہل مذاہب مستقل طور پر ذہنی شکست خوردگی میں مبتلا ہو گئے۔ ان کے اندر احساس کمتری پیدا ہو گیا۔ وہ سمجھنے لگے کہ حق ہماری جانب نہیں بلکہ سائنس کی جانب ہے۔ وہ اپنی ہر بات کو مشتبہ اور نام نہاد سائنس کے علمبرداروں کی طرف سے پیش کی ہوئی ہر بات کو قطعی سمجھنے لگے۔ مگر اس کے باوجود ان میں سے بہت سے لوگوں کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ مذہب کو بالکل اپنے ذہن سے کھرچ کر نکال دیتے ۔ وہ سائنس کی فتوحات سے مرعوب تھے مگر اس کے ساتھ مذہب کی تصویر کو بھی سینے سے لگائے رکھنا چاہتے تھے مگر سوال یہ تھا کہ ان دو متضاد قسم کے رجحانات کے درمیان مطابقت کی شکل کیا ہو۔ سائنس ہرگز اس کے لیے تیار نہیں ہو سکتی تھی کہ اپنے مزعومات کو مذہب کے اصولوں کا پابند رکھنے کی کوشش کرے ۔ غالب اپنے مغلوب کے حق میں کبھی روادار نہیں ہوتا۔ یہ کام مذہب کو کرنا تھا، نہ کہ سائنس کو ۔ چنانچہ ان اہل مذاہب نے اس وقت مذہب کی بہترین خدمت یہ سمجھی کہ مذہب کو تراش خراش کر جدید نظریات کے عین مطابق ثابت کر دکھائیں۔ اپنی مخصوص ذہنیت کے ساتھ وہ یہی کام کر سکتے تھے اور یہی انہوں نے کرنا شروع کر دیا۔ یہ قصہ صرف ان غلط روایات و نظریات کے ساتھ پیش نہیں آیا جن کو مذہب والوں نے خود سے گھڑ کر مذہب کی طرف منسوب کر دیا تھا اور اب نئی دریافتوں نے جن کی غلطی بالکل واضح کر دی تھی، بلکہ مذہب کی اصل تعلیمات بھی اس کی زد میں آ گئیں جن کے خلاف سائنس کے پاس کوئی حقیقی دلیل نہیں تھی بلکہ اس نے ضد اور رد عمل کے جوش میں ان سے انکار کر دیا تھا۔ اسی سلسلہ کی ایک مثال یہ سوشلسٹ نظریہ بھی ہے جو سائنس اور صنعت کی ترقی کے ساتھ یورپ میں پھیلا اور بالاخر ساری دنیا میں چھا گیا۔ اس صورت حال کا سب سے پہلا اور براہ راست اثر مسیحی مذہب پر ہوا۔ چنانچہ عیسائیوں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page