Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

اہلِ مذاہب کی سوشلزم سے مرعوبیت

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

بہت سے لوگ اٹھے جنہوں نے کہنا شروع کیا کہ '' سوشلزم ہی خدا کو پسند ہے‘‘ اور '' سچی عیسائیت مشترک ملکیت کا دوسرا نام ہے۔‘‘ اس زمانہ میں '' عیسائی اشتراکیت‘‘ (christian socialism) کی ایک مخصوص اصطلاح وضع ہوئی جس کا مطلب تھا '' سوشلزم کی حامی عیسائیت‘‘۔ جرمن ادب میں اس '' عیسائی اشتراکیت‘‘ کی مخصوص مثال پروٹسٹنٹ پادری ٹاٹ (Todt) کی کتاب ہے جو ۱۸۷۷ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں مصنف نے انجیل کے سینکڑوں ایسے اقتباسات پیش کیے ہیں جن کا مقصد عیسائیت کے بنیادی خیالات کو اشتراک کی اصول کے مطابق ثابت کرنا ہے۔ ٹاٹ اپنی کتاب ان الفاظ سے شروع کرتا ہے: ’’جو شخص سماجی مسائل کو سمجھنا اور حل کرنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنے ایک ہاتھ کی طرف اقتصادیات و معاشیات کی کتاب، دوسرے ہاتھ کی جانب اشتراکیت کا علمی ادب اور سامنے عہد نامہ جدید 1 کھول کر رکھ لے۔‘‘ فرانس اور انگلستان میں خاص طور پر عیسائی اشتراکیت کے بہت سے بڑے بڑے حامی پیدا ہوئے۔ فرانس کا مشہور اشتراکی مفکر سین سائمن (Sc. Simon) اپنی تصنیفات میں بار بار عیسائی تعلیم کے حوالے دیتا ہے۔ وہ سوشلزم کو جدید عیسائیت کی تکمیل تصور کرتا تھا۔ انگلستان کے سرکاری گرجا کا پادری مورلیس (Friedric De Nison Mourice) جو آخری عمر میں کیمبرج میں فلسفہ اخلاق کا پروفیسر ہو گیا تھا اور ۱۸۷۲ء میں جس کا انتقال ہوا، وہ کہتا ہے کہ '' عیسائیت کو بلا خوف و خطر یہ اعلان کر دینا چاہیے کہ اشتراکیت کے اقتصادی اصول عین انجیل کے اصول ہیں۔ انسانی جماعت ایک جسم کی مانند ہے جو بہت سے اعضاء سے ترتیب دیا گیا ہے، وہ ایک ایسا کل نہیں ہے جس کے اجزاء ایک دوسرے کی بربادی پر تلے ہوئے ہوں۔ اس کے اعضاء ایک دوسرے کے حریف ہونے کے بجائے ایک دوسرے سے مل کر کام کرنے والے ہونے چاہئیں‘‘۔ چنانچہ مورلیس اور کنگسلے (Kingslay) مقلّدین اور دوسرے اس خیال کے لوگ اپنے آپ کو '' عیسائی اشتراکی‘‘ (Christian Socialist) 1 یعنی بائبل کا وہ حصہ جس میں مسیحی تعلیمات کا ذکر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page