اہلِ مذاہب کی سوشلزم سے مرعوبیت
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
کہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عیسائیت اتحادِ عمل کو واحد جائز اصول مانتی ہے اور اسی لیے وہ بھی اشتراکیت سے قریب ہے۔ چونکہ ہم عیسائی ہیں اس لیے ہم کو اشتراکی ہونا چاہئے۔‘‘ اسی طرح انگلستان میں لارڈ بشپ ویسٹ کاٹ (Lord Bishop Westkott) عیسائی اشتراکیت کا حامی تھا۔ اکتوبر ۱۸۹۰ء میں انگریزی سرکاری گرجا کی سالانہ کانفرنس (Church Congress) میں تقریر کرتے ہوئے اس نے سوال کیا کہ ’’کیا ہمارے شہروں اور قصبوں کی حالت عین خدا کی مرضی کے مطابق پائی جاتی ہے؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا کہ ’’موجودہ تقسیم دولت کا معیار امیروں کے لیے بھی ویسا ہی خطرناک ہے جیسا کہ وہ غریبوں کے لیے ہے جو بھوکے مر رہے ہیں۔ صرف انجیل کے اصل مقصد کے مطابق، سوسائٹی کا جدید اشتراکی نظام ہی ایسی حالت میں ہماری مدد کر سکتا ہے‘ لندن میں سٹی ٹمپل کے پادری کیمبل (Rev. J. Campbeall) نے ایک جلسہ میں جو مارچ ۱۹۰۷ء میں لیور پول کی ’’آزاد مزدور پارٹی‘‘ کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا، اپنے خیال کا اظہار اس طرح کیا: ’’میں ایک اشتراکی ہوں اس لیے کہ میں عیسائی ہوں۔ خود انجیل کی منطق نے مجھے اس نتیجہ پر پہنچایا کہ جو کچھ عیسیٰ کا گرجا اپنے ابتدائی زمانہ میں چاہتا تھا، وہی آج اشتراکی پارٹی چاہتی ہے۔ وہ درحقیقت خدا کی سلطنت کو قائم کرنے کی جرأت کر رہی ہے۔ انیس سو برس گزر گئے اور ابھی تک یہ نصب العین پورا نہ ہو سکا۔ لیکن اے اشتراکیو! تم نئے سرے سے اس قدیم حق کو حاصل کرنے کی تبلیغ کرو اور دکھاو کہ گرجا کی صحیح تعلیم کی عملی شکل تم میں موجود ہے۔‘‘ جنوری ۱۹۰۸ء میں انگلستان کے مختلف گرجاوں کی انجمنوں کے سو سے زائد پادریوں نے اشتراکیت کی حمایت میں ایک متفقہ اعلان شائع کیا تھا۔ اس میں انہوں نے غلط فہمی سے بچنے کے لیے یہاں غالباً تاریخ حواریین کے اس بیان کی طرف اشارہ ہے جو ابتدائی عیسائی جماعت کی زندگی سے متعلق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں حضرت مسیح کے ’’ابتدائی پیرو اور حواریین ایک دوسرے سے وابستہ ہو کر زندگی گزارتے تھے۔ ان کی تمام اشیاء باہم مشترک ہوتی تھیں اور وہ اپنی کمائی کو آپس میں بانٹ لیا کرتے تھے۔‘‘ یہ غالباً اس قسم کی کوئی صورت حال تھی جیسی کہ اسلامی تاریخ میں ہجرت کے بعد مدینہ کی ابتدائی زندگی میں ملتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader