اہلِ مذاہب کی سوشلزم سے مرعوبیت
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
صاف طور پر یہ بھی تحریر کیا تھا کہ ان کی اشتراکیت کوئی الگ قسم کی اشتراکیت نہیں ہے، بلکہ ”وہی ہے جس کا تعلق تمام دنیا کے اشتراکیوں سے ہے اور اس میں پیداوارِ دولت کے ذرائع کا مشترک ہونا شامل ہے۔ ہمارا اشتراکیت کا تصور کچھ کم سنجیدہ یا کچھ کم درجہ کا نہیں ہے کیوں کہ اس میں عیسائیت کی روح نے جان ڈال دی ہے۔“1 بعینہ یہی کیفیت خود مسلمانوں کے درمیان بھی پیش آئی۔ انہوں نے جب دیکھا کہ سوشلزم عہد جدید کا مذہب بن چکا ہے اور زندگی کے مسائل پر ”سائنٹفک انداز“ میں سوچنے والے تمام لوگ اس کے حامی ہوتے جا رہے ہیں تو ان کو اس احساس سے بہت شرمندگی لاحق ہوئی کہ ان کا محبوب اسلام ترقی کی دوڑ میں دنیا سے پیچھے رہ جائے۔ وہ اسلام کے حق میں رجعت پسندی کو برداشت نہ کر سکے۔ ان کو گووارانہ ہوا کہ اسلام ایک ایسے ملکیتی نظام کی حمایت کرنے والا ہو جس کا تعلق تاریک دور کے جاگیرداری سماج سے ہے۔ انہوں نے فوراً زمانہ کی آواز میں اپنی آواز ملا کر یہ اعلان کر دیا کہ ”اسلام انفرادی ملکیت کا سخت مخالف ہے۔“ حضرت محمدؐ سب سے بڑے سوشلسٹ تھے‘ اور ’قرآن سرتا پا اشتراک کی تعلیمات سے بھرا ہوا ہے۔“ زندگی کے معاشی مسائل کو حل کرنے کا یہ طریقہ سو فیصد ی غلط نہیں ہے۔ یقیناً بعض حالات ایسے ہوتے ہیں کہ حکومت کسی معاشی اسکیم کو اپنے نظام میں شروع کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ ان معنوں میں سوشلزم قدیم ترین ریاستی نظاموں میں بھی موجود تھا۔ مگر جدید سوشلزم جس کو مارکس اور اس کے متبعین پیش کرتے ہیں وہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ مارکسی سوشلزم معاشیات کی تنظیم کے لیے اجتماعی ملکیت ہی کو اصل قرار دیتی ہے اور انفرادی ملکیتوں کو مجبوراً صرف وہاں تسلیم کرتی ہے جہاں اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ جب کہ پرانے نظام میں اصلاً انفرادی ملکیت ہوتی تھی اور اجتماعی ملکیت کو کسی خاص ضرورت کے وقت جزوی طور پر اختیار کیا جاتا تھا۔ 1 یہ تفصیلات پروفیسر کارل ڈیل (Karldiehl) کی کتاب ”سوشلزم کی بنیادی حقیقت اور اس کی اہم قسمیں“ سے لی گئی ہیں، جو کہ اصل جرمن زبان سے براہ راست اردو میں ترجمہ کر کے ندوتۃ المصنفین (دہلی) نے شائع کی ہے۔ حوالہ صفحہ ۸۸-۱۸۲۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader