سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی نظام کو جب دوسرے کسی نظام کا مخالف قرار دیا جائے تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ دونوں کے درمیان کوئی جزوی مشابہت بھی نہیں ہے۔ ایسی مشابہت تو انتہائی متضاد چیزوں میں بھی ثابت کی جاسکتی ہے۔ دو نظاموں کا مقابلہ ہمیشہ اس لحاظ سے کیا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر دونوں کا رخ کیا ہے اور زندگی کے بارے میں اصلا دونوں کیا نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے جب ہم سوشلزم کے معاشی حل کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اس کا فلسفہ اسلام کے برعکس ایک فلسفہ ہے، ٹھیک اسی طرح اس فلسفہ کے بطن سے نکلا ہوا معاشی حل بھی اسلام کے تصور سے بالکل مختلف ہے۔ دونوں کو ایک جگہ جمع نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام اپنے معاشی نظام میں اجتماعی ملکیت کا پیوند لگانے سے قطعی طور پر انکار کرتا ہے۔ یہاں ہم ان اصولی اسباب کو بتائیں گے جن کی بنا پر اسلام کے اندر اشتراکیت کے حل کو اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب ۱۔ زندگی کے تمام معاملات میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ وہ معاملہ کی فطری حالت کو اصلاً برقرار رکھ کرقوانین کے ذریعہ ان راستوں کو بند کردیتا ہے جہاں سے خرابیاں ظہور کرتی ہیں۔ معیشت کی تنظیم کے لیے انفرادی ملکیت کا اصول ہی فطری اصول ہے، اس کے دونہایت قرینے ہیں۔ پہلا یہ کہ آدمی کے اندر فطری طور پر یہ خواہش موجود ہے کہ جو کچھ وہ حاصل کرے وہ اس کی ذاتی ملکیت ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جتنی دلچسپی کے ساتھ اپنے لیے کام کرتا ہے دوسرے کے لیے نہیں کر سکتا۔ اس حقیقت کو عملی طور پر تمام کمیونسٹ ملکوں میں ہمیشہ سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ اور اب تو نظری طور پر بھی کمیونسٹ حضرات اس کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔ دوسری چیز یہ کہ تاریخ کے تمام معلوم زمانوں میں انفرادی ملکیت کا طریقہ رائج رہا ہے۔ انسانی تاریخ پورے تسلسل کے ساتھ انفرادی ملکیت کے حق میں شہادت دیتی ہے، نہ کہ نام نہاد اجتماعی ملکیت کے حق میں۔ تاریخ کے اسی خلاء کو پر کرنے کے لیے سوشلزم کے علمبرداروں نے ابتدائی انسانی سماج کے بارے میں یہ مفروضہ قائم کیا ہے کہ وہ اشتراکی سماج تھا۔ یعنی اس میں تمام چیزیں، حتی کہ عورت بھی، مشترک طور پر سب کے قبضہ میں ہوا کرتی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader