Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر یہ محض ایک مفروضہ ہے جس کے لیے قیاس و گمان کے سوا کوئی دلیل نہیں دی جا سکتی۔ اسلام ملکیت کے اسی فطری طریقہ کو اصولاً تسلیم کرتا ہے اور قوانین کے ذریعہ اس کا تحفظ کرتا ہے۔ آدمی جائز طور پر جو کچھ کماتا ہے اسلام کی نگاہ میں وہ اس کی ملک ہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کی ملک ہے۔ کسی فرد کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے کا اثاثہ چھین لے اور نہ اسلامی ریاست کو یہ حق ہے کہ وہ کسی کی ملکیت کو بحق سرکار ضبط کرلے۔ وہ کسی کی ملکیت میں صرف اس وقت مداخلت کر سکتی ہے جب کہ متعلقہ شخص نے احکام الہیٰ میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی کر کے اسے حاصل کیا ہو یا وہ ان راہوں میں اس کو استعمال کر رہا ہو جن راہوں میں استعمال کرنے سے خدا نے منع فرمایا ہے۔ خدا کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: کل المسلم علی المسلم حرام ہر مسلمان کے اوپر دوسرے مسلمان کی جان و مال اور دمہ و مالہ و عرضه (مسلم) عزت حرام ہے۔ دوسری جگہ آپؐ نے فرد کے اوپر اسلامی ریاست کے اختیارات کو مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمایا ہے: امرت ان اقاتل الناس حتیٰ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جنگ کروں یہاں تک کہ لوگ يشهدوا ان لا اله الا الله و شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں اور جو کچھ میں لایا يؤمنوا بما جئت به فاذا فعلوا ہوں اس پر ایمان لائیں۔ جب وہ ایسا کر لیں تو ان کا ذلك عصموا منی دمائهم و جان و مال میری طرف سے محفوظ ہو گا الا یہ کہ ان پر جان اموالهم الا بحقها۔ (مسلم) و مال کا کوئی حق دار ہوتا ہے۔ نبی ﷺ کے ان ارشادات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلم فرد یا مسلم ریاست کو جس طرح یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی کا قتل کر ڈا لے اسی طرح اس کو یہ حق بھی نہیں ہے کہ کسی کا مال اس کی مرضی کے بغیر غصب کرلے۔ جس طرح آدمی کی جان محترم ہے ٹھیک اسی طرح اس کا مال بھی محترم ہے اور اس کے خلاف کوئی اقدام صرف اس وقت کیا جا سکتا ہے جب کہ ان متعین استثنائی صورتوں میں سے کوئی صورت پیدا ہو جائے جو اللہ اور اس کے رسول نے بیان فرما دی ہیں اور جس کو اوپر کے ارشاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page