Urdu book · سوشلزم: ایک غیر اسلامی نظریہ

اجتماعی ملکیت کے غیر اسلامی ہونے کے اسباب

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ’’اِلّا بحقھا‘‘ کے ٹکڑے سے واضح کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کسی خود ساختہ نظریہ کی بنا پر انسان کی جان و مال میں تصرف نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ ’’الا بحقھا‘‘ کے استثناء میں ’’ذرائع پیداوار کی اجتماعی تنظیم‘‘ بھی شامل ہے اس وقت تک اسلام میں اس کی گنجائش ثابت نہیں ہوتی۔ ۲۔ سوشلزم کا بنیادی فلسفہ اسلام سے جس طرح ٹکراتا ہے اسی طرح اس کے معاشی حل کے پیچھے جو منطق ہے اس کے لیے بھی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ انسانیت کے مسئلہ کو حل کرنے کا سوال اصلاً یہ سوال ہے کہ انسان کو کس طرح بدلا جائے۔ انسان کے اندر تبدیلی کا احساس پیدا کیے بغیر حالات کو بدلنا ممکن نہیں ہے۔ اگر انسان نہ بدلیں تو رشوت بند کرنے کا قانون بھی بگڑے ہوئے افسروں اور اہل کاروں کے ہاتھ میں پڑ کر مزید رشوتیں وصول کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے، اور بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے خرچ کی ہوئی رقمیں چند ٹھیکیداروں اور اعلیٰ عہدیداروں کے گھر پہنچ جاتی ہیں۔ اسی لیے انسانی مسائل کی اصلاح کے لیے جو تحریکیں اٹھی ہیں وہ ہمیشہ اس سوال کو بنیادی اہمیت دیتی رہی ہیں کہ انسان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے۔ سوشلٹ حل دراصل اسی سوال کا ایک جواب ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مادی تبدیلی کا جو قانون ہے وہی انسان کی تبدیلی کا بھی قانون ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سوشلزم ’’اصلاح بذریعہ جبر‘‘ کا طریقہ ہے اور اسلام ’’اصلاح بذریعہ تربیت‘‘ کا۔ مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی تربیت کے ذریعہ اصلاح تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اسلام شعوری تبدیلی کے ذریعہ اصلاح کرنا چاہتا ہے اور مارکسزم کا دعویٰ یہ ہے کہ مادی تبدیلی کے ذریعہ انسان کی اصلاح ہوتی ہے۔ گویا اسلام اور مارکسزم میں فرق طریقِ کار کا نہیں ہے بلکہ اصول اور بنیاد کا ہے۔ اس فرق کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کا کہنا ہے کہ ’’انسان کو بدلنا چاہتے ہو تو اس کے ذہن کو بدل دو۔‘‘ اس کے برعکس مارکس کا کہنا ہے کہ ’’انسان کو بدلنا چاہتے ہو تو اس کے مادی حالات کو بدل دو۔‘‘ وہ بنیادی فلسفہ جس کو مارکس نے اس سلسلہ میں مرتب کیا تھا اس کو اپنی اصل شکل میں دنیا نے بہت کم قبول کیا، مگر مخصوص حالات کی بناء پر اس کے اس تجویز کیے ہوئے یا زیادہ صحیح لفظوں میں، دریافت کیے ہوئے حل نے بڑی کثرت سے لوگوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page